الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 272 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 272

٢٤٣ کے خزانوں کی چابیاں اپنے ہاتھ یں دیکھی تھیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فتوحات کا آغاز ہوا لیکن خلفائے راشدین کے ذریعہ یہ خصوصیات کمال کو پہنچیں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ خلفائے کرام آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے انسل تھے۔کیونکہ انہیں جو کچھ ملا تھا۔حضرت مصلے! علیہ وسلم کے طفیل سلا تھا۔پس مسیح موعود کے زمانہ میں شمس و قمر کا کس وشنو خسوف بھی در اصل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلمہ کے ہی نشانات ہیں۔مفتی صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افضلیت کے دھونی کا الزام تراشنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کر لینا چاہیئے۔تھا۔اگر وہ ایسا کرتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ لکھا پا سکے میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے رہزار ہڑا نہ درود اور سلام اس پہ یہ کس عالی مرتبہ کا بنی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا ہے اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے۔اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی۔دہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی در پیر پر بنی نوع انسان کی ہمدردی ہیں اس کی جان گرانہ ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقعت تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین نینی نمیشی اور اس کی مرادی