الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 150
ادا معاذ اللہ۔ہم احمدی کب کہتے ہیں کہ رَحْمَةٌ لِلعالمین کا وجود دنیا کے لئے زحمت بن جائے گا۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں اور نبوت بھی رحمت ہے تو آنحضرت رحمة للعالمین کے طور پر خاتم النبیین کے الفاظ کو نبوت کی رحمت کے لئے علی الاطلاق بند قرار دینے والے گھنا اور امتیوں کو جو عالمین میں سے اس عالم کے رہنے والے میں نبوت سے محروم قرارہ دنیا ہر گز جائز نہیں کیونکہ یہ رحمت کے بند ہو جانے کے مترادف ہے۔ہاں اگر نبوت رحمت کی بجائے زحمت ہوتی تو پھر اس کا بند کرنا ضروری تھا۔بہ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین ہیں۔مفتی محمد شفیع صاحب نے رحمتہ للعالمین کی آیت کے رو سے نبوت کا رحمت ہونا بھی تسلیم کر لیا ہے اور یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ آپ رحمت کے خاتم ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت کا خاتم مانتے ہوئے دو یہ بھی آ رہے ہیں۔کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ دنیا اسب رحمت سے خالی رہ جھینگی اور رحمتہ للعالمین کا وجود دنیا کے لئے (معاذ اللہ رحمت ہے تو ان دوروں نفروں کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے رحمت کا خاتم ہونے سے جو خاتم النب تین کا مفہو کر مفتی صاحب بہ نتیجہ نہیں نکال رہے کہ دنیا اب رحمت سے خالی ہوگئی ہے لہذا جب نبوت آپ کے نزدیک رحمت ہے اور حضرت بنی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے رحمت کا خاتم ہونے کے آپ کے نزدیک یعنی نہیں که رحمت علی الاطلاق یا کلی بند ہوگئی تو پھر مفتی صاحب مولانا محم قاسم ماست