الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 129 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 129

والی شهر قرار دیتے ہیں مگر موں نا محمد قاسم صاحب نے خاتم النبیین کی تفسیر میں خاتم کو اس کے لغوی مصدری معنوں میں لے کر آپ کو خاتم بالذات قرا نہ دیا ہے اس مفہوم میں کہ تمام نبیوں نے آپ کے خاتم بالذات ہونے کے واسطہ سے نبوت کا نیین پایا ہے گویا ان کے ظہور میں آپ بالواسطہ موثر ہیں اب جبکہ شریعت محمدیہ نامہ کا مستقله إلى يوم القيامة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آگئی تو آپ سے علیہ وسلم کی اطاعت شرط ہوگئی۔لہذا کوئی مستقل نبی اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔ان امتی کو نسلی طور پر مقام نبوت بل کھتا ہے نوس نقل نبی نہیں ہوگا۔بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوگا۔کیونکہ انتی نبی اور نطقی بنی ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔البتہ مقام نبوت پانے کی وجہ سے وہ انبیاء کے زمرہ میں شامل ہوگا جس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے بعض لوگ اس آیت کی روشنی میں صدیقوں ایہ نامہ کالم الا فیض پانے کے لئے آنحضرت صلے اللہ میں شامل ہوں گے اور حج شہیدوں میں اور بعض صالحین ہیں۔پس یہ آیت خاتم النبیین کی خاتم بالذات کے فیض سے آئندہ انتی بی کے پیدا ہونے کے لئے روشن دلیل ہے یعنی صاحب نے اس آیت کی تفسیر اپنے مطلب کے مطابق یوں بیان کی ہے کہ : اس آیت میں در حیات بات اور ملزبین خداوندی کے ساتھ ہونے کا وعدہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر کیا گیا جو اس کا صاف اعلان ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گیا۔وگرنہ قرین