اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 9 of 33

اخلاقِ احمد — Page 9

اخلاق ا۔۔۔۔۔۔دینی غیرت (1) شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفر میں تھے اور لاہور کے ٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فرمارہے تھے۔اس وقت پنڈت لیکھرام حضور سے ملنے کے لیے آیا اور آکر سلام کیا مگر حضرت صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا۔اس نے اس خیال سے کہ شاید آپ نے سنا نہیں دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام کہا۔مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ حضور ! پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا۔آپ نے فرمایا ”ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا " (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۲۸۱) (۲) حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”جب دسمبر 1962ء میں آریوں نے وچھو والی لاہور میں جلسہ کیا اور دوسروں کو بھی دعوت دی تو حضرت صاحب نے بھی ان کی درخواست پر ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کی امارت میں اپنی جماعت کے چند آدمیوں کو لاہور شرکت کے لیے بھیجا مگر آریوں نے خلاف وعدہ اپنے مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت بدزبانی سے کام لیا اس کی رپورٹ جب حضرت صاحب کو پہنچی تو حضرت صاحب اپنی جماعت پر سخت ناراض ہوئے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس مجلس سے کیوں نہ اُٹھ آئے اور فرمایا کہ یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو ایک مجلس میں بُرا کہا جاوے اور ایک مسلمان وہاں بیٹھا ر ہے اور غصہ سے آپ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپ سخت ناراض ہوئے کہ کیوں ہمارے آدمیوں نے غیرت دینی سے کام نہ رلیا۔جب انہوں نے بدزبانی شروع کی تھی تو فوراً اس مجلس سے اٹھ آنا چاہیئے تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اس وقت اُٹھنے بھی لگا تھا۔مگر پھر مولوی صاحب کی وجہ سے ٹھر گیا۔“ مهمان نوازی (سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحہ ۱۹۶) (۱) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الفکر میں لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمیت یا شاید لالہ ملا وامل نے دستک دی۔میں اُٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا۔مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اُٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا