اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 8 of 33

اخلاقِ احمد — Page 8

اخلاق احمد درج کی جاتی ہیں۔(۱) حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ ابتدائی ایام میں قادیان کے لوگوں کی طرف سے جماعت کو سخت تکلیف دی جاتی تھی۔مرزا امام الدین و مرزا نظام الدین وغیرہ کی انگیخت سے قادیان کی پبلک خصوصا سکھ سخت ایذارسانی پر تلے ہوئے تھے۔اور صرف باتوں تک ایذارسانی محدود نہ تھی بلکہ دنگا فساد کرنے اور زدو کوپ تک نوبت پہنچی ہوئی تھی۔اگر کوئی احمدی مہاجر بُھولے سے کسی زمیندار کے کھیت میں رفع حاجت کے واسطے چلا جاتا تھا تو وہ بدبخت اُسے مجبور کرتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اپنا پا خانہ وہاں سے اُٹھائے۔کئی دفعہ معزز احمدی ان کے ہاتھ سے پٹ جاتے تھے اگر کوئی احمدی ڈھاب میں سے کچھ مٹی لینے لگتا تو یہ لوگ مزدوروں سے ٹوکریاں اور کرالیں چھین کر لے جاتے اور ان کو وہاں سے نکال دیتے تھے اور اگر کوئی سامنے سے بولتا تو گندی اور مخش گالیوں کے علاوہ اُسے مارنے کے واسطے ختیار ہو جاتے مگر آپ ہمیشہ یہی فرماتے کہ صبر کرو۔“ (سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحه ۱۴۰) (۲) حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ ”جب مولوی عبدالطیف صاحب مرحوم کی شہادت کی خبر آئی تو ایک طرف تو حضرت صاحب کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جُدا ہو گیا اور دوسری طرف آپ کو پرلے درجہ کی خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے ایک شخص نے ایمان و اخلاص کا یہ اعلی نمونہ دکھایا کہ سخت سے سخت دُکھ اور مصائب جھیلے اور بالآخر جان دے دی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔“ (۳) مائی حیات بی بی صاحبہ والدہ حافظ محد شفیع صاحب قاری ساکن سیالکوٹ نے بیان کیا کہ مرزا صاحب جب تیسری دفعہ (سیالکوٹ) آئے (تو) لوگوں نے آپ پر گوڑا ڈالا۔نیز حافظ صاحب نے اس موقعہ پر بتلایا کہ ” اس محلہ کے مولوی حافظ سلطان نے جو میرے اُستاد تھے۔لڑکوں کی جھولیوں میں راکھ ڈلوا کر انہیں چھتوں پر چڑھا دیا اور انہیں سکھایا کہ جب مرزا صاحب گزریں تو یہ راکھ ان پر ڈالنا۔چنانچہ انہوں نے ایسا کیا سیرت المہدی حصہ سوم صفحه) (۴) حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں جو گندے اشتہارات گالیوں کے شائع ہوا کرتے تھے ان کو حضور ایک الگ بستے میں رکھتے رہتے تھے چنانچہ ایسے اشتہاروں کا ایک بڑا بستہ بن گیا تھا جو ہمیشہ آپ کے کمرے میں کسی طاق میں یا صندوق میں محفوظ رہتا تھا۔“ (سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحه ۶۵۹) (ذکر حبیب صفحه ۴۰)