اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 20 of 33

اخلاقِ احمد — Page 20

اخلاق اح 20۔ایک پتھر کا ادویہ کوٹنے والا کھرل اُٹھا لائی جسے دیکھ کر حضرت صاحب بہت ہنسے اور ہماری والدہ صاحبہ ( یعنی حضرت ام المؤمنین) سے ہنستے ہوئے فرمایا کہ دیکھو کہ میں نے اس سے خلال مانگا تھا اور یہ کیا لے آئی ہے۔اسی عورت کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ میاں غلام محمد کا تب امرتسری نے دروازہ پر دستک دی اور کہا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو کہ کا تب آیا ہے۔یہ پیغام لے کر وہ حضرت صاحب کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ حضور قاتل دروازے پر کھڑا ہے اور بُلاتا ہے۔حضرت صاحب بہت ہنسے۔“ (۵) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی اپنے بچوں کو پیار سے چھیڑا بھی کرتے تھے اور وہ اس طرح سے کہ بھی بچہ کا پہنچہ پکڑ لیا۔اور کوئی بات نہ کی خاموش ہور ہے یا بچہ لیٹا ہوا ہو تو اس کا پاؤں پکڑ کر اس کے تلوے کو سہلانے لگے ( نیز حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ یہ پہنچے پکڑ کر خاموش ہو جانے کا واقعہ میرے ساتھ بھی کئی دفعہ گزرا ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳۸) (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳۱) (۶) حافظ نور محمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں اور حافظ نبی بخش صاحب حضرت صاحب کی ملاقات کے لیے گئے تو آپ نے عشاء کے بعد حافظ نبی بخش صاحب سے مخاطب ہو کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”میاں نبی بخش آپ کہاں لیٹیں گے؟ میاں نور محمد تو لحد کی مشق کر رہے ہیں؟ بات یہ تھی کہ اس وقت میں جہاں لیٹا ہوا تھا میرے نیچے ایک ٹکڑا سرکنڈے کا پڑا تھا جو قد آدم لمبا تھا۔اسے دیکھ کر آپ نے بطور مزاح ایسا فرمایا کیونکہ دستور ہے که مردہ کو کسی سرکنڈے سے ناپ کر لحد کو اس کے مطابق درست کیا کرتے ہیں۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۴۷) دوسروں کی انتہائی دلداری اور انکی دل شکنی سے بچنا (۱) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق میں بعض باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں اور ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کبھی کسی کی پشکنی کو پسند نہیں فرماتے تھے اور اس سے بہت ہی بچتے تھے۔اور دوسروں کو بھی منع فرماتے تھے۔نیز حضرت میرزا بشیر احمد صاحب نے بیان کیا کہ آپ کی سیرت کا یہ ایک خاص نمایاں پہلو تھا کہ حتی الوسع دوسروں کی انتہائی دلداری فرماتے اور دشکنی سے بچتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۰) (۲) سید محمد علی شاہ صاحب نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے ایک شاگرد نے مجھے شیشم کی