اخلاقِ احمد — Page 13
اخلاق ا 13۔نے اعتراض کیا کہ جب تک کتاب مکمل نہ ہودی نہیں جاسکتی۔تب حضور نے فرمایا جتنی چھپ چکی ہے میاں غلام نبی صاحب کو دے دو اور لکھ لوکہ پھر اور بھیج دی جائے گی۔اور مجھے فرمایا کہ اس کو مشتہر نہ کرنا۔جب تک کہ مکمل نہ ہو جائے۔“۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۷ ۴۸) (۴) حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بیان کیا کہ ”میرالڑ کا عبدالرحمن ہائی اسکول میں تعلیم پاتا تھا وہ فوت ہو گیا۔مجھے اطلاع ملی تو قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب سے نماز جنازہ پڑھائی اور اس سے فارغ ہو کر میں واپس فیض اللہ چک چلا گیا۔پھر میں آئندہ جمعہ کے دن قادیان آیا مسجد مبارک میں گیا۔جب حضور کی نظر شفقت مجھ پر پڑی تو حضور نے فرمایا آگے آجاؤ حضور کا فرمانا تھا کہ سب نے میرے لیے رستہ دے دیا۔حضور نے میرے بیٹھتے ہی محبت کے انداز میں فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنے بچہ کی موت پر بہت صبر کیا ہے۔میں نعم البدل کے لیے دُعا کروں گا۔چنانچہ اس دُعائے نعم البدل کے نتیجہ میں خدا نے مجھے ایک اور بچہ دیا۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۰۱) (۵) مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا اور میری والدہ صاحبہ مرحومہ بھی میرے ساتھ تھیں جو بھیرے سے حضرت صاحب کی بیعت کے لیے تشریف لائی تھیں اور اسی سال انہوں نے حضرت صاحب کی بیعت کی تھی جب ہم واپس ہونے لگے تو حضرت صاحب ہمارے یکہ پر سوار ہونے کی جگہ تک ساتھ تشریف لائے اور ہمارے لیے کھانا منگوایا کہ ہم ساتھ لے جائیں وہ کھا نالنگر والوں نے کسی کپڑے میں باندھ کر نہ بھیجا تھا تب حضرت صاحب نے اپنے عمامہ میں سے قریب ایک گز لمبا کپڑا پھاڑ کر اس میں روٹی کو باندھ دیا۔“ تحفہ کا شکریہ (ذکر حبیب صفحه ۴۵) (۱) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے لیے جب کوئی شخص تحفہ لاتا تو آپ بہت شکر گزار ہوتے تھے۔اور گھر میں بھی اس کے اخلاص کے متعلق ذکر فرمایا کرتے اور اظہار کیا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے یہ چیز بھیجی ہے۔(سیرت المہدی حصہ سوم محی۷۱۳) دشمنوں سے سلوک (۱) حضرت ام المؤمنین سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔مرز انظام الدین صاحب