اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 6 of 33

اخلاقِ احمد — Page 6

اخلاق احمد 6۔۔۔۔(۳) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آیا اُسے اُس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گزر چکا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ روزہ کھول دیں اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے اب کیا کھولنا ہے۔حضور نے فرمایا کہ آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے چاہتے ہیں۔خدا تعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے جب اُس نے فرمایا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیں رکھنا چاہیئے۔اس پر اس نے روزہ کھول دیا۔“ حضور کے صحابہ کے شاندار نمونے (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۱۷) (۱) بابا کریم بخش صاحب سیالکوٹی نے بیان کیا کہ ۰۶-۱۹۰۵ء کے جلسہ کا واقعہ ہے کہ میں مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لیے آیا اس وقت مسجد اقصی چھوٹی تھی میں نے جو تیوں پر اپنی لوئی بچھادی اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آگئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے نماز سے فارغ ہونے کے بعد قریب کے مکان والے آریہ نے گالیاں دینا شروع کر دیں۔کیونکہ اس کے مکان کی چھت پر بعض اور دوست نماز پڑھ رہے تھے جب وہ گالیاں دے رہا تھا۔حضور منبر پر تشریف لے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے حالات اور لوگوں کے مظالم بیان کرنے شروع کیے جس پر اکثر دوست رونے لگے اسی اثنا میں میں کسی کام کے لیے بازار میں اترا۔واپسی پر دیکھا کہ بھیڑ زیادہ ہے اتنے میں حضور کے یہ الفاظ میرے کان میں پڑے کہ ”بیٹھ جاؤ جو حضور لوگوں کو مخاطب کر کے فرمارہے تھے میں یہ الفاظ سنتے ہی وہیں بازار میں بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے مسجد کی سیڑھیوں پر پہنچا اور حضور کی تقریر سُنی " (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحہ ۷۴۱ ) (۲) حضرت خلیفہ اول بیان کرتے فرمایا کرتے تھے کہ ”جب میں جموں کی ملازمت سے فارغ ہو کر بھیرہ آیا تو میں نے بھیرہ میں ایک بڑا مکان تعمیر کرانا شروع کیا۔اور اس کے واسطے کچھ سامان عمارت خریدنے کے لیے لاہور آیا۔لاہور آ کر مجھے خیال آیا کہ چلو قادیان بھی ایک دن ہوتے آویں۔خیر میں یہاں آیا۔حضرت صاحب سے ملا تو حضور نے فرمایا۔مولوی صاحب اب تو آپ ملازمت سے فارغ ہیں۔امید ہے۔کچھ دن یہاں ٹھیریں گے میں نے عرض کیا ہاں حضور ٹھیروں گا۔پھر چند دن کے بعد فرمانے لگے مولوی صاحب آپ کو اکیلے تکلیف ہوتی ہوگی اپنے گھر والوں کو بھی یہاں بلا لیں۔میں نے گھر والوں کو بھیرہ خط لکھ دیا کہ