اخلاقِ احمد — Page 4
اخلاق ا كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِئُ فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ (ترجمہ) تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔پس تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔اپ تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے پروا نہیں کیونکہ مجھے تو بس صرف تیری ہی موت کا ڈر تھا جو واقع ہو چکی۔“ (سیرت المہدی دوم ۳۳۳) میری آہٹ سن کر حضرت صاحب نے چہرے پر رومال والا ہاتھ اُٹھالیا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔“ (۲) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا کہ ”جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تقریر یا مجلس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے تو بسا اوقات ان محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرماتے کہ ”ہمارے آنحضرت “ نے یوں فرمایا ہے۔اسی طرح تحریر میں آ آنحضرت صلعم کے نام کے بعد صرف یا صلعم نہیں لکھتے تھے بلکہ پورا درود یعنی صلی اللہ علیہ وسلم لکھا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۴۷) (۳) مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال نے بیان کیا کہ ”جب میں حضرت صاحب کے پاس سوتا تھا تو آپ صبح کی نماز کے لیے ضرور جگاتے تھے اور جگاتے اس طرح تھے کہ پانی میں انگلیاں ڈبو کر اُس کا ہلکا سا چھینٹا پھوار کی طرح پھینکتے تھے مینے ایک دفعہ عرض کیا کہ آپ آواز دے کر کیوں نہیں جگاتے اور پانی سے کیوں جگاتے ہیں۔اس پر فر مایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے تھے اور فرمایا کہ آواز دینے سے بعض اوقات آدمی دھڑک جاتا (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۴۹۲) (۴) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ چھوٹی سی چھوٹی بات میں بھی آنحضرت صلعم کی اتباع کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ سوئم صفحه ۴۹۲) (۵) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صدقہ میں جانور کی قربانی بہت کیا کرتے تھے گھر میں کوئی بیمار ہو یا کوئی مشکل در پیش ہوئی یا خود یا کسی اور نے کوئی منذر خواب دیکھا تو فوراً بکرے یا مینڈے کی قربانی کرا دیتے تھے۔۔۔اور فرماتے تھے کہ یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی تھی۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۵۷)