اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 22 of 33

اخلاقِ احمد — Page 22

اخلاق احمد 22۔کے لیے آیا احباب کے جھرمٹ میں وہ حضور تک نہ پہنچ سکا اور بلند آواز سے بولا حضور میں تو زیارت کے لیے آیا ہوں۔حضور نے فرمایا۔بابا جی کو آگے آنے دو۔لیکن وہ اچھی طرح اُٹھ نہ سکا۔اس پر حضور نے فرمایا۔بابا جی کو تکلیف ہے اور پھر حضور خود اُٹھ کر اُس کے پاس آبیٹھے۔“ تعلیم وتعلم (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۷۴۰ ) (۱) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ”جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہ فرمایا تھا۔میں نے ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے اسے اپنے ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔میں نے عرض کیا حضور تو پھر کوئی تعلق تو ہنا چاہیئے۔میں آتا ہوں اور اوپرا اوپر چلا جاتا ہوں۔حضور نے فرمایا اچھا تم ہمارے شاگرد بن جاؤ اور ہم سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ لیا کرو حضور مجھے ایک ہفتہ کے بعد ایک آیت کے سادہ معنے پڑھا دیا کرتے تھے اور کبھی کسی آیت کی تھوڑی سی تفسیر بھی فرما دیتے تھے۔ایک دن فرمایا۔میاں عبد اللہ میں تم قرآن شریف کے حقائق و معارف اس لیے نہیں بتاتا کہ میں تم میں ان کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں دیکھتا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ اس کا مطلب میں یہ سمجھا ہوں۔کہ اگر مجھے اس وقت بتائے جاتے تو میں مجنون ہو جاتا۔مگر میں اس سادہ ترجمہ کا ہی جو میں نے آپ سے نصف پارہ کے قریب پڑھا ہو گا اب تک اپنے اندر فہم قرآن کے متعلق (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۱۱) ایک خاص اثر دیکھتا ہوں۔“ (۲) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فر ماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا اس میں ایک قسم کا کبر پایا جاتا ہے۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۲۷) (۳) قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بیان کیا کہ ”میں جب شروع میں قادیان گیا تو ایک شخص نے اپنے لڑکے کو حضرت صاحب کے سامنے ملاقات کے لیے پیش کیا۔جس وقت وہ لڑکا حضرت صاحب کے مصافحہ کے لیے آگے بڑھا تو اظہار تعظیم کے لیے حضرت کے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا۔جس پر حضرت صاحب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اُسے ایسا کرنے سے روکا۔اور میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اور آپ نے بڑے جوش میں فرمایا کہ انبیاء