اخلاقِ احمد — Page 21
اخلاق احمد 21 ایک چھڑی بطور تحفہ دی میں نے خیال کیا کہ میں اس چھڑی کو حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کروں گا۔چنانچہ خاکسار نے قادیان پہنچ کر بوقت صبح جبکہ حضور سیر سے واپس تشریف لائے وہ چھڑی پیش کر دی حضور کے دست مبارک کی چھڑی میری پیش کردہ چھڑی سے بدرجہا خوبصورت و نفیس تھی لہذا مجھے اپنی کو تہ خیالی سے یہ خیال گذرا کہ شائد میری چھڑی قبولیت کا شرف حاصل نہ کر سکے۔مگر حضور نے کمال شفقت سے اُسے قبول فرما کر دُعا کی۔بعد ازاں تین چار روز حضور علیہ السلام میری چھڑی کو لیکر سیر کو تشریف لے جاتے تھے جسے دیکھ کر میرے دل کو تسکین و اطمینان حاصل ہوا۔۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۴۹) (۳) منشی عبد العزیز صاحب او جلوی نے بیان کیا کہ ایک روز کا واقعہ ہے کہ ایک دودھ کا بھراہوالوٹا حضور کے سرہانے رکھا ہوا تھا خاکسار نے اسے پانی سمجھ کر ہلا کر جیسے لوٹے کو دھوتے وقت کرتے ہیں پھینک دیا جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ دودھ تھا تو مجھے سخت ندامت ہوئی۔لیکن حضور نے بڑی نرمی اور دلجوئی سے فرمایا اور بار بار فرمایا کہ بہت اچھا ہوا کہ آپ نے اسے پھینک دیا۔یہ دودھ اب خراب ہو چکا تھا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۵۶۷) (۴) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ والد بزرگوار (یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم) نے اپنا ایک بانات کا کوٹ جو مستعمل تھا ہمارے خالہ زاد بھائی سید محمد سعید کو جو ان دنوں میں قادیان میں تھا کسی خادم عورت کے ہاتھ بطور ہدیہ بھیجا۔محمد سعید نے نہایت حقارت سے وہ کوٹ واپس کر دیا اور کہا کہ میں مستعمل کپڑا نہیں پہنتا۔جب وہ خادمہ یہ کوٹ واپس لا رہی تھی راستہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے اس نے جواب دیا کہ میر صاحب نے یہ کوٹ محمد سعید کو بھیجا تھا مگر اس نے واپس کر دیا ہے کہ میں اُتر ا ہوا کپڑا نہیں پہنتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس سے میر صاحب کی دشمنی ہوگی تم یہ کوٹ ہمیں دے جاؤ ہم پہنیں گے اور ان سے کہہ دینا کہ میں نے رکھ لیا ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳۲) (۵) ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ لا ہور احمد یہ بلڈ نلس میں حضور تشریف فرما تھے کہ شر قبور بھینی سے ایک ضعیف العمر نا تواں شخص مستقیم نام حضور کی خدمت میں زیارت نماز اور پھر باجماعت نماز اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ایک فضل ہے“ ارشاد حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرموده ۲۳/ اپریل ۱۹۴۱ء)