اخلاقِ احمد — Page 7
اخلاق احمد۔۔۔۔۔۔عمارت بند کرادو اور یہاں چلے آؤ۔پھر ایک موقعہ پر حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔مولوی صاحب اب آپ اپنے پچھلے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں فرمایا میں دل میں بہت ڈرا کہ یہ تو ہو سکتا ہے کہ میں وہاں بھی نہ جاؤں یہ مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے دل میں بھی بھیرہ کا خیال نہ آوے۔مگر فر مایا کہ خدا کا ایسا فضل ہوا کہ آج تک میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ بھیرہ بھی میرا وطن ہوتا تھا۔“ (سیرت المہدی حصّہ اوّل صفحه ۱۰۳) (۳) میاں عبداللہ صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ ”میں شروع میں حقہ بہت پیا کرتا تھا۔شیخ حامد علی بھی پیتا تھا۔کسی دن شیخ حامد علی نے حضرت صاحب سے ذکر کر دیا کہ یہ حقہ بہت پیتا ہے۔اس کے بعد میں جو صبح کے وقت حضرت صاحب کے پاس گیا اور حضور کے پاؤں دبانے بیٹھا تو آپ نے شیخ حامد علی سے کہا کہ کوئی حقہ اچھی طرح تازہ کر کے لاؤ۔جب شیخ حامد علی حقہ لایا تو حضور نے مجھ سے فرمایا پیوئیں شرمایا مگر حضرت صاحب نے فرمایا جب تم پیتے ہو تو شرم کی کیا بات ہے۔پیو کوئی حرج نہیں میں نے بڑی مشکل سے رُک رُک کر ایک گھونٹ پیا پھر حضور نے فرمایا ” میاں عبداللہ مجھے اس سے طبعی نفرت ہے۔‘ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے۔بس میں نے اسی وقت سے حقہ ترک کر دیا۔اور اس ارشاد کے ساتھ ہی میرے دل میں اس کی نفرت پیدا ہوگئی۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۱۱۳) (۴) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ راولپنڈی سے ایک غیر احمدی آیا جو اچھا متمول آدمی تھا۔اُس نے حضرت صاحب سے درخواست کی کہ میرا فلاں عزیز بیمار ہے حضور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو اجازت دیں کہ میرے ساتھ راولپنڈی تشریف لے چلیں اور اس کا علاج کریں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم مولوی صاحب کو یہ بھی کہیں کہ آگ میں کھس جاؤ یا پانی میں گو د جاؤ تو اُن کو کوئی عذر نہیں ہوگا۔لیکن ہمیں بھی تو مولوی صاحب کے آرام کا خیال چاہئے میں راولپنڈی جانے کے لیے نہیں کہہ سکتا۔“ دین کی راہ میں تکالیف (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۲۸۵) دنیا کا دستور ہے کہ ہر سچائی کی مخالفت کی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی حضور کے رشتہ دار ناروا سلوک کرتے جسے حضور اور حضور کے خدام نہایت صبر سے برداشت کرتے حضور جو شیلے اصحاب کو صبر کی تلقین بھی فرماتے رہے۔اس کی چند ایک مثالیں ذیل میں