اخلاقِ احمد — Page 5
اخلاق قرآن کریم کا احترام اور اس سے محبت (۱) حضرت ام المؤمنین نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ۔۔۔مبارک احمد مرحوم سے بچپن کی بے پروائی میں قرآن شریف کی کوئی بے حرمتی ہو گئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اتنا غصہ آیا کہ آپ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے غصہ میں مبارک احمد کے شانہ پر ایک طمانچہ مارا جس سے اس کے نازک بدن پر آپ کی انگلیوں کا نشان اُٹھ آیا اور آپ نے اُس غصہ کی حالت میں فرمایا کہ اس کو اس وقت میرے سامنے سے لے جاؤ۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفی ۳۳۳) (۲) مرزا سلطان احمد صاحب (مرحوم) نے بیان کیا کہ والد صاحب تین کتابیں بہت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے یعنی قرآن مجید - مثنوی رومی اور دلائل الخیرات اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے اور قرآن شریف بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۹) (۳) حافظ نور محمد صاحب نے بیان کیا کہ حافظ نبی بخش صاحب نے (حضور سے ) ہنسکر عرض کیا کہ یہ (یعنی خاکسار نور محمد ) بہت وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو وظیفہ نہیں کرتا صرف قرآن شریف ہی پڑھتا ہوں۔آپ مسکرا کر فرمانے لگے کہ تمہاری تو یہ مثال ہے کہ کسی شخص نے کسی کو کہا کہ یہ شخص بہت عمدہ کھانا کھایا کرتا ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ میں تو کوئی اعلیٰ کھانا نہیں کھاتا صرف پلا ؤ کھایا کرتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف سے بڑھ کر اور کونسا وظیفہ ہے۔یہی بڑا اعلیٰ وظیفہ ہے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۳۳) اطاعت وفرمانبرداری حضور کے اعلیٰ نمونے (۱) مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ والد صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) دادا صاحب کی کمال تابعداری کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۱۹۵) (۲) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ”جب حضور کو وَسِعُ مَكَانَكَ (یعنی اپنا مکان وسیع کر ) کا الہام ہوا تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مکانات بنوانے کے لیے تو ہمارے پاس روپیہ ہے نہیں۔اس حکم الہی کی اس طرح تعمیل کر دیتے ہیں کہ دو تین چھپر بنوا لیتے ہیں چنانچہ حضور نے مجھے اس کام کے واسطے امرتسر بھیجا اور چھپر کا سامان لے آیا اور حضرت صاحب نے اپنے مکان میں تین چھپر تیار کروائے یہ چھپر کئی سال تک رہے پھر ٹوٹ پھوٹ گئے۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۱۴۱)