اخلاقِ احمد — Page 3
اخلاق ا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حلیہ مبارک 3۔۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قد درمیانہ سے ذرا اونچا۔بدن کسی قدر بھاری آنکھیں بڑی بڑی۔مگر ہمیشہ خفض بصر کی صورت میں رہنے کے سبب باریک سی معلوم ہوتی تھیں۔چہرہ چمکدار- چھاتی کشادہ - کمر سیدھی۔جسم کا گوشت مضبوط تھا۔جسم اور چہرے پر جھریاں نہ تھیں۔رنگ سفید و سرخ گندمی تھا۔جب آپ ہنستے تھے تو چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔سر کے بال سیدھے کانوں تک لٹکتے ہوئے ملائم اور چمکدار تھے۔ریش مبارک کھنی ایک مشت سے کچھ زیادہ لمبی رہتی تھی۔(ذکر حبیب ص ۳۱) اکثر اوقات آنکھیں نیم بند اور نیچے کی طرف جھکی رہتی تھیں۔“ (سلسلہ احمدیہ ص ۱۹۴) لباس عموماًبند گلے کا کوٹ یا جبہ۔دیسی کاٹ کا کرتہ یا قمیص اور معروف شرعی ساخت کا پاجامہ جو آخری عمر میں عموماً گرم ہوتا تھا۔جوتا ہمیشہ دیسی پہنا کرتے تھے اور ہاتھ میں عصا ر کھنے کی عادت تھی۔سر پر اکثر سفید ململ کی پگڑی باندھتے تھے۔جس کے نیچے عموما نرم قسم کی رومی ٹوپی ہوتی تھی۔خوراک (سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۹۵) " کھانے میں نہایت درجہ سادہ مزاج تھے اور کسی چیز سے شغف نہیں تھا بلکہ جو چیز بھی میتر آتی تھی بے تکلف تناول فرماتے تھے اور عموما سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔غذا بہت کم تھی۔اور جسم اس بات کا عادی تھا کہ ہر قسم کی مشقت برداشت کر سکے۔“ (سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۹۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ اخلاق و اطوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور حضور کے طریق عمل کا احترام (۱) مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دفعہ دو پہر کے وقت میں مسجد مبارک میں داخل ہوا تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے گنگناتے ہوئے حضرت حستان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ہے۔ناقل ) پڑھ رہے تھے۔اور ساتھ ساتھ ٹہلتے بھی جاتے تھے