اخلاقِ احمد

by Other Authors

Page 15 of 33

اخلاقِ احمد — Page 15

اخلاق احمد 15۔شمالی جانب سیر کے لیے تشریف لے گئے میں اور شیخ حامد علی (صاحب) ساتھ تھے راستہ پر ایک کھیت کے کنارے ایک چھوٹی سی بیری تھی اور اسے بیر لگے ہوئے تھے اور ایک بڑا عمدہ پکا ہوا لال بیر راستہ میں گرا ہوا تھا میں نے چلتے چلتے اُسے اُٹھالیا اور کھانے لگا۔حضرت صاحب نے فرمایا نہ کھاؤ اور وہیں رکھ دو آخر یہ کسی کی ملکیت ہے میاں صاحب موصوف بیان کرتے کہ اس دن سے آج تک میں نے کسی بیری کے بیر بغیر اجازت مالک اراضی کے نہیں کھائے کیونکہ جب میں کسی بیری کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بات یاد آ جاتی ہے۔سیرت المہدی حصہ اول صفر ۱۹) بدھنی سے بچو (1) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بندہ کو چاہیئے کہ ہمیشہ اپنے خدا پر نیک ظن رکھے۔تمام غلط عقائد کی جڑ اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے ذلِكُمُ ظُنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدِيكُمْ۔یعنی اے کا فرو! تم نے جو بدظنی خدا پر کی اُسی نے تم کو ہلاک کیا۔اسی طرح حدیث شریف میں آیا ہے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح میرا بندہ میرے متعلق گمان کرتا ہے میں اُس کے ساتھ اُسی طرح کا سلوک کرتا ہوں۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۷۸۴) عام مخلوق پر رحم (1) ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں ( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کے لیے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا۔میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑ ا کرتے جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔“ (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه (۱۷۸) (۲) خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ بڑا موٹا کتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں گھس آیا اور ہم بچوں نے اُسے دروازے بند کر کے مارنا چاہا۔لیکن جب کتنے نے شور مچایا تو حضرت صاحب کو بھی پتہ لگ گیا اور آپ ہم پر ناراض ہوئے چنانچہ ہم نے دروازے کھول کر کتے کو چھوڑ دیا۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحه (۳۴۱) بچہ کو ہر وقت کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھنا چاہیے“ ارشاد حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی الہ تعالی عنہ فرموده ا مارچ ۱۹۳۹ء)