اخلاقِ احمد — Page 14
اخلاق احمد رض 14۔کے عزیزوں نے حضرت کو اطلاع دی اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے۔اور مناسب علاج کیا جس سے فائدہ ہو گیا۔اس وقت باہمی سخت مخالفت تھی۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۵۱) (۲) مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ مارن کلارک مقدمہ میں ایک شخص مولوی فضل الدین لاہوری حضور کی طرف سے وکیل تھایہ شخص غیر احمدی تھا۔۔۔۔جب مولوی محمد حسین بٹالوی حضرت صاحب کے خلاف شہادت میں پیش ہوا تو مولوی فضل الدین نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں مولوی محمد حسین صاحب کے حسب و نسب کے متعلق کوئی سوال کے کمروں حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا کہ میں اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور فرما یالا يُحِبُّ اللَّهُ الجَهْرَ بِالسُّوءِ۔۔۔۔اس پر اس بات کا بڑا اثر ہوا تھا۔“ خیرات (سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۲۴۸) (۱) مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت صاحب باہر سے اندرونِ خانہ تشریف لے جارہے تھے کسی فقیر نے آپ سے کچھ سوال کیا مگر اس وقت لوگوں کی باتوں میں آپ فقیر کی آواز کو صاف طور پر سن نہیں سکے تھوڑی دیر کے بعد آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کسی فقیر نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے لوگوں نے اُسے تلاش کیا مگر نہ پایا لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ فقیر خود بخود آ گیا اور آپ نے اسے کچھ نقدی دے دی۔اس وقت آپ محسوس کرتے تھے کہ گویا آپ کی طبیعت پر سے ایک بھاری بوجھ اُٹھ گیا ہے اور آپ نے فرمایا کہ میں نے دُعا بھی کی تھی۔کہ اللہ تعالیٰ اس فقیر کو واپس لاوے (سیرت المہدی حصہ اول صفحہ ۲۹۸) (۲) مائی حیات بی بی صاحبہ والدہ حافظ محمد شفیع صاحب قاری نے بیان کیا کہ۔۔۔جب آپ پہلے پہلے سیالکوٹ تشریف لائے اور یہاں ملازمت کے زمانہ میں رہے تو جو تنخواہ مرزا صاحب لاتے محلہ کی بیوگان اور محتاجوں کو تقسیم کر دیتے۔کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے۔اور صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے تھے۔“ دیانتداری (سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۶۲۵) (۱) میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب قادیان کے لے مولوی محمد حسین بٹالوی کے نسب میں بعض معیوب باتیں کبھی جاتی تھیں۔واللہ اعلم۔جن کو وکیل اپنے سوال سے ظاہر کرنا چاہتا تھا مگر ا حضرت صاحب نے روک دیا در اصل حضرت صاحب اپنے ہاتھ سے کسی دشمن کی بھی ذلت نہیں چاہتے تھے۔ہاں جب خدا کی طرف سے کسی کی ذلت کا سامان پیدا ہوتا تھا تو وہ ایک نشانِ الہی ہوتا تھا جسے آپ ظاہر فرماتے تھے۔منہ