جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 27
۲۷ جسکی غرض و غایت ، تلیس و کتمان حقیقت کے سوا کچھ نہیں۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے جھوٹ گھڑے گئے ہیں جن کا بوجھ اگر ہمالیہ کی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر پڑتا تو وہ بھی زمین میں دھنس جاتی۔حضرت مسیح موعود جیسے بیمثال عاشق رسول پر یہ الزام بھی اسی قبیل سے ہے کہ معاذ اللہ آپ نے قادیان کو مکہ کے مساوی قرار دیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔آپ ایک عربی قصیدہ میں اس مقدس ترین لیتی کا ذکر کس والہانہ انداز میں فرماتے ہیں :۔شَمسُ الهُدى طَلَعَتْ بَنَا مِن مَكَةَ عَيْن النَّدَى تَبَعَتْ لَنَا بِخِرَاء ضَاهَتَ آيَاةُ الشَّمْسِ بَعْضَ ضِيَاءِ ا فَإِذَا رَائِيتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائي ، ترجمہ : آفتاب ہدایت ہمارے لیے مکہ سے طلوع ہوا اور چشمہ سخاوت ہمارے لئے غارِ حرا سے پھوٹا۔مادی آفتاب کی شعاع اس کے بعض نور سے کچھ ہی مشابہت رکھتی ہے۔لیکن اس آفتاب کے نور انوار کو جب میں دیکھتا ہوں تو زار و قطار رونے لگتا ہوں اس میں کلام نہیں کہ آپ کے ایک شعر میں قادیان کو ہجوم خلق کے باعث ارض حرم کہا گیا ہے۔مگر ذوقِ سخن رکھنے والے بزرگ بخوبی جانتے ا " انجام آتھم " - درثمین عربی مترجم ص ۱۹ مطبوعہ کتاب گھر قادیان ۶۱۹۲۴