جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 26
MY میں نے اس کتاب کی تعریف سنی تھی پھر مصنف کی نسبت معلوم ہوا کہ وہ مولوی نہیں ہیں بلکہ کالج کے پروفیسر ہیں اور وہ بھی اقتصادیات کے۔اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ انہوں نے مولویوں کے طرز تحریر سے مختلف انداز اختیار کیا ہوگا اور متناز عمر امور پر مدلل اور سائینٹفک طریق پر بحث کی ہوگی۔لیکن کتاب پڑھنے سے یہ خیال غلط نکلا۔۔۔کتاب کے محاسن میں سب سے بڑی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ مصنف کہ نے اپنی طرف سے بہت کم لکھا ہے۔بے شک یہ دعوی درست ہے پروفیسر صاحب نے صرف کہیں کہیں مختصر سی تنقید کی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن مصنف کے یہ چند جملے اور ابواب اور پیروں کے عنوان دل آزاری کے کامیاب نمونے ہیں۔ہر حیثیت مجموعی یہ کتاب کسی قابل تعریف مقصد کو حاصل نہیں کرتی اور نہ یہ کسی ایسے مقصد کیلئے لکھی گئی معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ بنیادی متنازعہ امور کی نسبت فیصلہ کیا درست ہے یا کم از کم اس تک پہنچنے کیلئے صحیح اندازِ فکر اور استدلال کیا ہے" اب واضح ہو کہ متذکرہ بالا اعتراض کے تمام اجزاء (بلکہ کئی اور اعتراضات بھی جن کا ذکر آگے آرہا ہے) اسی دل آزار کتاب سے لئے گئے ہیں ن احمدیہ تحریک ص ۱۳-۱۴ ناشهر سندھ ساگھر اکادمی لاہور ۱۹۵۸ء نماش