جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

by Other Authors

Page 25 of 81

جماعت احمدیہ پر اعتراضات کا علمی جائزہ — Page 25

۲۵ يَايُّهَا الَّذِيْنَ المَنُوا لَا يَجْرِمَنْكُمْ شَعَانُ قَوْمٍ عَلى اَنْ لاَ تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى اے مومنو! کسی گروہ کی مخالفت نکو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی پر اتر آؤ۔عدل و انصاف پر قائم رہو کہ یہی قرین تقوی ہے۔اس فرمان شاہی کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ کسی تحریک یا مسلک کے خلاف قلم اٹھانے سے قبل اس کے لٹریچر کا براہ راست مطالعہ کیا جائے مگر جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے عملاً اس کی تحقیق کا نقطہ معراج یہ سمجھا جارہا ہے کہ پروفیسر الیاس برنی صاحب کی کتاب " "قادیانی مذہبی " پر اندھا دھند ایمان لایا جائے جس کے متعلق بہ مغیر کے بعض چوٹی کے مبصرین اور ناقدین کی یہ بے لاگ رائے ہے کہ۔جس حد تک بانی احمدیت کی زندگی و تعلیم احمدیت کا تعلق ہے وہ تلبیس و کتمان حقیقت کا سوا کچھ نہیں " سے اور ملک محمد جعفر خان مصنف کتاب " احمدیہ تحریک “ بیان ہے " مجھے سب سے زیادہ مایوسی پروفیسر الیاس برنی صاحب کی کتاب "قادیانی مذہب کے مطالعہ سے ہوئی۔کئی لوگوں سے نے اس کتاب کا بصیرت افروز اور محققانہ جواب بشارت احمد اور " تصدیق احدیت کی صورت میں سید بشارت احمد صاحب وکیل حیدر آباد کے قلم سے مدت ہوئی چھپ چکا ہے سے ملاحظات نیاز فتح پوری صلاب (مرتبہ مولانا محمد اجمل شاہد ایم اے)