حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 4
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کوئی آیت قرآنی آپ کے کانوں میں پڑ جاتی تو اس کو بھی یا درکھتی تھیں۔جب آنحضرت مے اور آپ میلے کے سب سے پیارے دوست حضرت ابوبکر صدیق نے مکہ والوں کے ظلم سے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی (ہجرت کا مطلب ہے اپنے مذہب کی خاطر لوگوں کے ظلم کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ کر کسی اور جگہ جا کر رہنا ) تو حضرت عائشہ کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔اس چھوٹی سی بچی کو ہجرت کے تمام واقعات بڑوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ یاد تھے۔جو آپ نے بیان فرمائے اب دیکھو یہ کتنا بڑا احسان ہے ورنہ ان باتوں کی تفصیل ہمیں کیونکر معلوم ہوتی۔حضرت خدیجہ کے متعلق تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ وہ حضرت محمد دا اے کی پہلی بیوی تھیں۔جو آنحضرت ﷺ کی سچی ہمدرد اور جان و مال کے لحاظ سے آپ ﷺ پر ہرلمحہ قربان ہونے والی بیوی تھیں۔اُن کی وفات کے صلى الله بعد آنحضرت علی بہت اداس رہا کرتے تھے۔صلى الله حضرت خولہ بنت حکیم آپ ﷺ کی اداسی اور پریشانی کو دیکھ کر ایک دن آپ ﷺ کے گھر آئیں اور کہنے لگیں کہ " اے اللہ کے رسول حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپ علی بہت اداس نظر آتے ہیں“ آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں گھر کا انتظام اور بچوں کی تربیت سب خدیجہ