حضرت عائشہ صدیقہ ؓ — Page 2
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ایک 2 ، گھوڑا رکھا تھا۔جس کے کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے۔آپ میں اللہ نے دریافت فرمایا: وو ی تم نے گڑیوں کے ساتھ کیا رکھا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا " گھوڑا ہے ! فرمایا: "کیا گھوڑوں کے کبھی پر بھی ہوتے ہیں؟ ذہین بچی فوراً بول اُٹھی ”حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے بھی تو پر تھے !“ (1) جانتے ہو یہ حاضر جواب بچی کون تھی؟ یہ عائشہ بنت ابو بکر صدیق میں۔آپ نہ صرف حاضر جواب تھیں بلکہ انبیاء کی تاریخ سے واقفیت بھی رکھتی تھیں۔اُس دور میں نہ اسکول تھے نہ ہی کتابیں پھر بھی علم کا شوق رکھنے والے بچے بچیاں تھیں۔خدا تعالی چاہتا تھا کہ عرب، دنیا کے استاد بنیں اس لئے اُس نے اِس قوم کو بہترین حافظے اور ذہن عطا کئے۔پھر اپنے سب سے بڑے رسول مہ کو ان میں بھیجا اور پھر سب سے بڑی کتاب قرآن کریم جو اپنے اندر علم کے خزانے رکھتی تھی اُن پر نازل کی اور اس طرح سُن سُن کر حافظے کی وجہ سے علم سیکھنے والوں نے سیکھ لیا اور پھر دُنیا کے استاد بن گئے۔حضرت عائشہ بھی اُن خوش قسمت لوگوں میں سے تھیں۔آپ