ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 5 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 5

5 6 عرض حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا گھر جنت عرضی کی مثال بنا رہا ہے۔میری پہلی شادی 1940ء میں ہوئی۔ہمارے گھر کا ماحول نہایت خوشگوار رہا۔بارہ سال بعد دوسری شادی ہوئی۔اس کے بعد بھی اہلی زندگی بے حد پر سکون رہی۔بچے بڑے ہوئے اور ان کی شادیوں کا مرحلہ آیا۔تب بھی ہم میں باہم اتحاد و اتفاق رہا۔عمر بھر ہم نے جہیز کا معاملہ گفتگو کا موضوع نہ بنایا۔میری بیویاں میرے عزیزوں اور بزرگوں سے احترام سے پیش آتیں اور میں ان کے والدین کا پورا پورا ادب کرتا رہا۔جب ہم گھر میں اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے پر جان شار کرتے اور جب میں خدمت دین کے لئے ملک سے باہر چلا جاتا تو بھی دلوں میں دوری کا خیال تک نہ آتا۔والدہ مبارک احمد جن کا انتقال 16 جون 1992 ء کو ہوا میری زوجیت میں باون سال رہیں۔میں نے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ اس عرصہ میں 26 سال وہ مجھ سے دور رہیں۔تنہائی میں عورتوں کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔لیکن خدا کی اس نیک بندی نے کبھی شکایت نہ کی۔ایک دو بار صرف اس قدر رلکھا کہ افسوس ہے اپنی بیماری کی وجہ سے پردیس میں میں آپ کی کوئی خدمت نہیں کر رہی۔ہر حال میں صبر کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں زندگی بخشی ہے۔جب اس کی مرضی ہوئی ہمیں با ہم اکٹھا کر دے گا۔والدہ مبارک احمد محبت اور وفا کا مجسمہ تھیں اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ہے۔ہماری جنت کے جو پانچ کونے تھے۔دو بیویاں، دو بچے اور خاوند۔ان میں سے ایک خدا تعالیٰ کے حکم سے الگ ہو گیا۔ہم سب اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔مجھے جب ان کی جدائی کا غم زیادہ دباتا ہے تو عالم خیال میں صوفی تبسم کا یہ شعر زبان پر آجاتا ہے۔شاید تمہیں بھی چین نہ آئے مرے بغیر شاید بات تم بھی گوارا نہ کر سکو ہمارے پیارے آقا کا یکم اگست 1992ء کا جلسہ سالانہ لندن کے دوسرے دن کا خطاب جس میں حضور انور نے احمدی خواتین کی قربانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔میرے لئے مہمیز (ایٹڈ یا تازیانہ لگانے کا باعث بن گیا ہے۔ذیل کی سطور میں میں نے جدا ہونے والی حور صفت کے کچھ اوصاف حمیدہ ان کے لئے دعا کی درخواست کے ساتھ درج کئے ہیں۔امید ہے جان سے پیارے آقا اور میرے تمام روحانی بہن بھائی ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کر کے مجھے ممنون فرمائیں گے اور میرے لئے بھی نیک انجام کی اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین کے اس شعر کی کامل مصداق کہ صادق آں باشد ایام بلا ے گزارد با محبت با وفا میں نے ان کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ان کے دل میں سب کے لئے خیر ہی خیر اور ہمدردی ہی ہمدردی کے جذبات تھے۔اس لئے ان کی وفات سے دل پر شدید چوٹ لگی