ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 2
000 ربنا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا తెలు سیدنا حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( دین حق ) نے عورت کے حقوق و فرائض کی ادائیگی کی بھی اسی طرح تلقین فرمائی ہے جس طرح مردوں کے حقوق وفرائض کی۔عورت ہی ہے جس کی گود میں آئندہ نسلیں پروان چڑھتی ہیں اور عورت ہی ہے جو قوموں کے بنانے یا بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے جس طرح کھول کر عورتوں کے حقوق وفرائض کے بارے میں فرمایا ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں جس طرح تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے مطابق تربیت دینے کی طرف توجہ دلائی ہے، اگر عورتیں اس ذمہ داری کو سمجھ لیں تو احمدیت کے اندر بھی ہمیشہ حسین معاشرہ قائم ہوتا چلا جائے گا اور پھر اس کا اثر آپ کے گھروں تک ہی محدود نہیں رہے گا ، جماعت کے اندر تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا اثر گھروں سے باہر بھی ظاہر ہوگا۔اس کا اثر جماعت کے دائرہ سے نکل کر معاشرہ پر بھی ظاہر ہوگا اور اس کا اثر گلی گلی اور شہر شہر والمملكة المتقين إماما اور ملک ملک ظاہر ہوگا۔اور وہ انقلاب جو حضرت اقدس مسیح موعود ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ( دین حق ) کی جس خوبصورت تعلیم کا علم دے کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے اس تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور ( دین حق ) کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے میں اور جلد از جلد تمام دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرنے میں ہم ائے ہمارے رب ! ہم کو اپنے جیون ساتھیوں اور اولاد سے تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب احمدی عورت اپنی ذمہ داری کو سمجھے، اپنے مقام کو سمجھ لے اور اپنے فرائض کو سمجھ لے اور اس کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی آنکھوں کی ٹھنڈک عطا اگر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔کوشش کرے۔( الفرقان : 75) (خطاب جلسہ سالانہ ہالینڈ 3 جون 2004ء از الفضل انٹر نیشنل 22 جولائی 2005ء) ازال