ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 6 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 6

8 7 ایک نیک بی بی کی یاد میں میری پیدائش کے بعد ہی سے میرے لئے بہت سے رشتے آئے اکثر رشتوں کو بزرگوں نے خود ہی نا پسند ٹھہرا دیا۔جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا تو پھر میری شادی کا چرچا ہوا۔میں نے ابا جان کی خدمت میں انگریزی میں ایک عریضہ لکھا کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے۔میری شادی کا معاملہ فی الحال رہنے دیں۔انہوں نے میری عرضداشت منظور کر لی۔جب میں ایف اے سیکنڈ ائیر میں تھا تو پھر ایک رشتہ کی پیش کش ہوئی۔میں نے دعا کے بعد قرآن مجید سے فال لی تو سورۃ یوسف کی وہ آیت سامنے آئی جس کا ترجمہ ہے " اور جو بھی تقوی اختیار کرے اور صبر کرے۔تو اللہ تعالی محسنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔" میں نے پھر شادی سے انکار کر دیا۔جون 1939ء میں میں دینی تعلیم کے لئے قادیان گیا اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔انہی ایام میں ایک پختہ عمر کے بزرگ میرے پاس آئے اور انگریزی پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔میں نے منظور کر لیا۔وہ روزانہ میرے پاس آ کر تھوڑ اوقت انگریزی پڑھ لیتے تھے۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دراصل میرے حالات و کوائف کی تفتیش کر رہے تھے۔انگریزی پڑھنے کے بہانے وہ میرے کوائف حاصل کرتے رہے۔ساری باتیں وہ اپنے برادر نسبتی برادرم محترم عبد الرحمان خاں صاحب کو لکھتے رہے۔یہ کوائف راولپنڈی سے وہ اپنے والد محترم منشی محمد حیات خاں صاحب کو ملتان بجھواتے رہے۔جناب محترم منشی محمد حیات خاں صاحب ملازمت سے فراغت کے بعد آنریری انسپکٹر بیت المال کے طور پر خدمات بجالا رہے تھے۔1940ء میں جب میں گرمی کی تعطیلات گزار نے قادیان سے لودھراں گیا۔تو معلوم ہوا کہ بیت المال کے ایک انسپکٹر صاحب دورے پر لودھراں تشریف لا رہے ہیں۔مرکزی مہمانوں اور دوسرے احمدی احباب کا قیام بالعموم ہمارے ہاں ہوتا تھا۔جب محترم خاں صاحب کی آمد کی اطلاع جماعت کو دی گئی تو ایک بزرگ نے ابا جان سے کہا کہ آپ مہربانی فرما کر جناب خاں صاحب کی خدمت میں ہماری طرف سے رشتہ کی درخواست پہنچا دیں۔محترم خاں صاحب ابا جان کے پرانے ملنے والے تھے۔جب وہ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ان کی خدمت اور خاطر تواضع خاکسار کے سپرد ہوئی۔ابا جان نے ایک دن ان صاحب کی درخواست محترم خاں صاحب کی خدمت میں پیش کر دی۔جناب خان صاحب نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا۔"بابو صاحب آپ دوسروں کی سفارش کرتے ہیں۔اپنے بیٹے کے لئے کیوں رشتہ طلب نہیں کرتے ؟ ابا جان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تین چار سال قبل میرے چھوٹے بھائی کے ہاں بچی پیدا ہوئی ہے۔قبلہ والد صاحب نے اسے میرے بیٹے سے منسوب کر دیا ہے۔اس لئے یہ معاملہ اب ہمارے اختیار سے باہر ہے۔اگر آپ پسند فرما ئیں تو ان سے ذکر کر دیکھیں۔قتال پور کی جماعت بھی خاں صاحب کے حلقہ میں شامل تھی۔دورہ کرتے کرتے وہاں پہنچے۔اور باتوں باتوں میں رشتے کا ذکر بھی چل پڑا۔حضرت دادا جان نے فرمایا کہ رشتہ تو طے ہو چکا ہے۔لیکن بچوں کی عمر میں کافی فرق ہے۔اگر آپ جلدی سے یہ کام کر سکتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔جب بچی بڑی ہو جائے گی تو اس کا رشتہ بھی وہیں ہو جائے گا۔محترم خاں صاحب نے صورتحال سے میرے والدین کو مطلع فرمایا اور رشتہ طے ہو گیا۔فیصلہ یہ ہوا کہ اسی سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر نکاح اور رخصتانہ ہو جائے۔جناب خان صاحب کے خلوص، سادگی اور میانہ روی نے میرے دل پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔میں نے بھی ہاں کر دی۔رخصتوں کے بعد میں ہوسٹل جامعہ احمدیہ قادیان واپس آ گیا۔جناب خاں صاحب اپنے سارے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔ان کی دو بیویاں فوت ہو چکی تھیں۔آمد کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔انہوں نے میرے ابا جان سے کہا کہ اگر آپ پانچ سو روپے حق مہر کی رقم پہلے ادا کر دیں تو ہم اس سے شادی کی تیاری کر لیں گے۔ابا جان نے ادائیگی کر دی۔جلسہ سالانہ