ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 4 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 4

4 3 رانستل : من لدن سلطانية لناه هنالك فكما مبينا لة ينذر جهان شد حضرت خلیفہ اصبح الرائع کا ایک مکتوب سم الة الصحة العالم نحمده وَتُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكريم پیارے عزیزم مبارک طاہر السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته اپنی والدہ مرحومہ کی پاکیزہ یادوں پر مشتمل جو مختصر مضمون آپ نے اپنے والد صاحب کا مجھے بھجوایا اس پر بار بار آپ کا شکریہ ادا کرنے کو دل چاہا۔یہ مضمون بھجوا کر آپ نے مجھ پر احسان کیا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء یہ ذکر خیر محض ایک پاک بی بی کی یاد میں نہیں بلکہ بہت سے پاکباز وجودوں کی یاد پر مشتمل ہے۔کیسے کیسے سادہ۔پاک۔بے تکلف۔بے ریا غیر اللہ سے تہی لوگ تھے۔اللہ اور رسول سے سینوں کو منور کئے ہوئے قناعت کے شہزادے اور شہزادیاں۔دل ذکر اللہ سے مطمئن۔آنکھیں اس کی عطاء سے ٹھنڈی۔سرتا پاشکر۔مجسم حمد رَاضِيَةً مَّرْضِيَّة یہ آخرین تو اپنی مرادوں کو پاگئے اور اولین سے جاملے۔اور اپنا حال یہ ہے کہ ستاری کے پردہ کی اوٹ میں عفو کی چادر میں لپٹ کر تحلیل ہو جانے کو جی چاہتا ہے۔مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے آپ کو یا مکرم و محترم مولوی محمد منور صاحب کو تعزیت کا پیغام بھیج یا خط اپنے ہاتھ سے لکھا کہ نہیں۔اگر نہیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے یہ سخت کو تا ہی ہوئی۔کوشش تو پوری کرتا ہوں کہ سب حق والوں کے حق ادا کروں لیکن بعض دفعہ چوک جاتا ہوں تو شرمندگی میں بھیگی ہوئی بے بسی مجھے سزا دیتی ہے۔آپ نے مضمون بھیجا تو احساس ندامت دعاؤں میں ڈھلنے لگا اور جذبات نے برس کر دل کی سب کدورت دھوڈالی اور تازہ دم اور ہلکا محسوس کرنے لگا۔مگر ایک معمہ سمجھ نہیں آیا۔اس مختصر سے مضمون نے اتنے لوگوں کی اتنی محبت میرے دل میں کیسے پیدا کر دی۔اور وہ لوگ جو طمانیت اور رضا کے پیکر تھے اور اس خوف وحزن کی دنیا میں حفاظت یافتہ اور خلد آشیاں تھے ان کی یاد اتنی درد انگیز کیسے ہوگئی۔کل رات کاموں سے فارغ ہو کر یہ مضمون پڑھا۔آج کے دن کا آغاز یہ خط لکھ کر کر رہا ہوں۔رات بھر یہ کیفیت اسی طرح زندہ اور تازہ رہی جیسے مضمون پڑھتے وقت تھی۔اور اس وقت بھی ویسی ہی ہے۔سوچتا ہوں کبھی آپ کی امی سے ملاقات ہوئی یا نہیں۔شائد کبھی دفتر وقف جدید میں مجھ سے دوا لینے آئی ہوں۔آئی بھی ہوں تو مجھے کیا پتہ لگ سکتا تھا کہ کون اور کیا ہیں۔عزت تو میں سب کی کرتا تھا مگر ان کو اُٹھ ملتا۔ان کا دل کی گہرائیوں سے احترام کر کے میں عزت پاتا۔ان کو دعائیں دیتا۔ان سے دعائیں لیتا۔دل بھر کے آج آپ سب کا غم میں نے پی لیا ہے۔مگر بانٹ نہیں سکتا۔بانٹنے سے تو غم کم ہو جانے چاہئیں مگر انسان کے دُکھ بانٹنے کا قصہ تو برعکس اثر دکھاتا ہے۔کاش میں آپ کا اور سب محروموں کا غم کم کر سکتا۔لیکن انسان بڑا بے بس ہے۔مکرم مولوی صاحب اور سب بزرگوں اور عزیزوں کو محبت بھرا سلام۔میری دعائیں رحمت بن کر آپ پر برسیں۔والسلام وزیر خلف الميم الرابع