ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 12
20 19 کہنے لگیں نیا خریدنا چاہیے کتنا خرچ ہو گا؟ دوسوروپے۔خوش قسمتی سے میری جیب میں پانچ سوکا نوٹ تھا وہ میں نے انہیں دے دیا اور کہا کہ عید سر پر آگئی ہے اور بھی جو کچھ لینا ہولے لیں۔اگلے ہی روز وہ برقعہ کے لئے کپڑا اور کچھ اور کپڑے وغیرہ لے آئیں۔اور اپنی بہو سے کہا کہ جلدی جلدی میرے لئے برقعہ سی دیں۔باقی کپڑے توسل گئے۔برقعہ کے صرف بٹن بنوانے باقی رہ گئے تھے کہ وہ عید سے پہلے ایک سفید و براق کپڑا کفن۔زیب تن کر کے عید منانے چلی گئیں۔میں نے اس کے بعد کئی بارسوچا ہے کہ اللہ تعالی کا فضل ہی ہے کہ ہم کئی اچھی اچھی چیزیں کھاتے اور پہنتے ہیں اور یہ محسوس بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہورہا ہے۔ورنہ اگر وہ نہ چاہے تو ہم کسی چیز کے استعمال کا حق نہیں رکھتے۔مجھے یاد آیا کہ والدہ مبارک میں شکر کا بھی بے انتہا جذبہ تھا اکثر کہا کرتیں کہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہاس کے فضل سے ہماری تمام ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔کھانے کے لئے تمام پسندیدہ اشیا مل جاتی ہیں، پہننے کے لئے اچھا کپڑا مہیا ہو جاتا ہے۔جب کسی شخص کے متعلق سنتیں کہ مالک مکان اپنے کرائے دار سے کرائے کا تقاضا کر رہا ہے اور وہ لیت ولعل کر رہا ہے یا مالک مکان اپنے کرائے دار سے مکان خالی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تو خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتیں کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں گھر عطا فرما دیا ہے۔ہمیں نہ کرایہ ادا کرنے کا فکر نہ مکان خالی کرنے کے نوٹس کا خطرہ۔والدہ مبارک ہمیشہ دعا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں چلتی پھرتی اس دنیا سے لے جائے۔چار پائی پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا انہیں سخت ناپسند تھا۔ان کی یہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔جمعہ کے روز صبح کے وقت انہوں نے سینے میں درد کی شکایت کی ہم نے سمجھا گیس کی شکایت کی وجہ سے ہے۔اس کے ازالہ کے لئے جتنی ایلو پیتھی، یونانی اور ہومیو پیتھک دوا ئیں گھر میں موجود تھیں استعمال کروائیں مگر درد تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا تھا عزیز مبارک احمد عزیزم ڈاکٹر خالد صاحب کو گھر بلا لائے انہوں نے بتایا کہ دل کا شدید حملہ ہوا ہے۔فوراً ایمر جنسی وارڈ میں لے جائیں بلکہ وہ خود ایک کار میں ان کو اپنے ساتھ فضل عمر ہسپتال لے گئے۔تمام ڈاکٹر اور نرسیں خدمت کے لئے حاضر ہو گئیں شام کو دوسرا حملہ ہوا صبح سات بجے تیسرا حملہ ہوا۔ہمارے ڈاکٹر صاحبان تمام دوائیں جو اس حملے کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں کراتے رہے لیکن جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی خدا تعالیٰ نے والدہ مبارک کی دعا قبول کر لی اور وہ دیکھتے دیکھتے دنیا کے جھمیلوں سے پلہ چھڑا کر ہمیں حیران و پریشان چھوڑ گئیں۔وہ ہمیشہ ہمیں اچھا مشورہ دیا کرتی تھیں اب ہمیں ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔لیکن دعا کے سوا چارہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہماری دستگیری فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے اور دل بے قرار کو قرار عطا فرمائے۔میں اپنی طرف سے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے فضل عمر ہسپتال کے تمام عملہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری مریضہ کے علاج میں کوئی کوتا ہی نہیں کی۔اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔دفتر وصیت و بہشتی مقبرہ نے بھی حساب کتاب نپٹانے میں جلدی کی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کی اجازت مرحمت فرمائی۔ان سب کے ہم ممنون ہیں۔فیکٹری ایریا کے خدام و انصار نے خصوصی محبت و تعاون کا مظاہرہ کیا۔سات جون کو رات کے ساڑھے تین بجے بیدار ہو کر پیدل جنازه بیت المبارک لے گئے جہاں نماز جنازہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے فجر کی نماز کے بعد پڑھائی۔تمام نمازی اس میں شریک ہوئے۔پھر خدام وانصار میت کو بہشتی مقبرہ لے گئے اور تدفین و آخری دعا میں شامل ہوئے جو محترم ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے کرائی۔ان تمام حضرات، علماء کرام اور عزیز نو جوانوں کے