ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 11 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 11

18 17 ان سے جاملیں گے۔ان کی وفات پر کافی دن گزر گئے ہیں۔پھر بھی کبھی کبھی دل سے آواز اٹھتی ہے کہ کسی نظر کو تیرا کہاں ہو تم کہ تیرا انتظار آج بھی ہے دل بے قرار آج بھی ہے والدہ مبارک احمد کی کئی نیک خواہشات اللہ تعالیٰ نے پوری فرما ئیں پہلی تو یہی بیٹا ہونے کی خواہش۔جو سات سال کے بعد نہایت عمدہ رنگ میں پوری ہوئی۔عزیز کی پیدائش سے پہلے ہی انہوں نے بچے کو دین کے لئے وقف کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔اسی نیت سے انہوں نے اس کی اچھی تربیت کی اور ہر روز دعائیں کرتے ہوئے اسے پروان چڑھایا۔جب عزیز نے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کر لیا تو حضرت امام ثالث نے ان کا عارضی وقف قبول فرماتے ہوئے سیرالیون بھجوا دیا۔پھر حضرت امام رابع ” نے ان کا مستقل وقف قبول فرمالیا اور تعلیمی فرائض کے ساتھ ساتھ دعوت الی اللہ کی خدمت بھی سپرد فرمائی۔والدہ کے لئے یہ امر بڑے اطمینان کا باعث ہوا۔سیرالیون سے واپس آنے میں جب عزیز موصوف نے دیر لگائی تو ممتا نے جوش مارا۔اور اکلوتے بیٹے سے ملاقات کی خواہش دل میں بے قراری سے کروٹیں لینے لگی۔مجھے بار بار کہتیں کہ مبارک کو منگوانے کے لئے درخواست کریں۔ان کی بصارت کمزور ہو رہی تھی اور ڈرتی تھیں کہ اگر بہت دیر سے واپسی ہوئی تو شاید ان کی بے نور آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھ بھی نہ سکیں۔میں نے عزیز کولکھا۔پیارے حضور نے ان کو واپسی کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنی والدہ کی وفات سے قریباً پونے دو سال قبل وہ ربوہ آگئے۔میری ان سے ملاقات بارہ سال کے بعد ہوئی۔والدہ مبارک احمد کی چار پوتیاں ہیں۔ان کے رشتوں کے بارہ میں انہیں فکر رہتا تھا اور ہر وقت دعاؤن میں لگی رہتی تھیں۔کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے نیک ساتھی مہیا فرمائے۔عزیز کی واپسی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ بڑی تینوں پوتیاں نیک گھرانوں کے نیک نوجوانوں سے منسوب ہو گئیں۔ان میں سے ایک کی تو جنوری 92ء میں شادی بھی ہو گئی۔ان سب تقریبات میں بصد مسرت و انبساط شامل ہوئیں۔والدہ مبارک احمد کی بڑی خواہش تھی کہ میری زندگی میں ان کی وفات ہو۔اس خواہش کا اظہار انہوں نے شادی کے معا بعد کرنا شروع کر دیا تھا۔شاید یہی دعا بھی کرتی ہوں گی۔باون سال میری زوجیت میں گزارنے اور عمر میں مجھ سے چھوٹی ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے میں سبقت لے گئیں۔ان کی خواہش اور دلی تمنا تو پوری ہوگئی۔مگر مجھے سوگوار کر گئیں۔جسم سلگا ہے تیری یاد میں ایندھن کی طرح آنکھ برسی ہے تیرے نام سے ساون کی طرح والدہ مبارک کو شوق تھا کہ جب وہ فوت ہوں تو میں ان سے راضی ہوں۔انہوں نے سنا ہوا تھا کہ جس بیوی پر خاوند خوش ہو وہ جنتی ہوتی ہے۔گزشتہ عید الفطر کے روز میری طبیعت سخت خراب تھی۔اس عید سے پہلے ساری جماعت پر جو قیامت گزرگئی تھی اس نے مجھے سخت بے چین کر رکھا تھا۔بار بار خیال آتا کہ ہمارے پیارے امام آج عید کیونکر منائیں گے۔ذراسی حرکت سے بھی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی اور پوری تیاری کے باوجود میں نے نماز عید کے لئے نہ جانے کا فیصلہ کیا ( یہ اکیلی نماز عید ہے جس سے میں محروم رہا ہوں )۔والدہ مبارک کی طبیعت بھی خراب تھی۔وہ بھی عید کے لئے نہ جاسکیں۔معلوم نہیں۔انہیں کیا خیال آیا کہ آہستگی سے مجھے کہا کہ زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے بہتر ہے کہ ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کر دیں۔میں نے انہیں تسلی دلائی کہ ان کی طرف سے میرا دل ہمیشہ صاف رہا ہے۔نہ اب نہ پہلے کبھی میں ان سے ناراض ہوا ہوں۔خوشی سے ان کا چہرہ تمتما اٹھا۔کیا معلوم تھا کہ وہ مجھ سے رخصت ہونے کی اجازت طلب کر رہی ہیں۔کیونکہ اس معافی کے جلد بعد وہ یہ جہان فانی ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئیں۔ان کی وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا ایک عجیب پہلو سامنے آیا بڑی عید سے چند دن پہلے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرا برقعہ بوسیدہ ہو گیا ہے۔میں نے پوچھا کہ پھر کیا ارادہ ہے۔