ایک نیک بی بی کی یاد میں

by Other Authors

Page 14 of 14

ایک نیک بی بی کی یاد میں — Page 14

24 23 سید نا حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: خاوندوں کی اور مردوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ایک تو وہ اپنے عملی نمونے سے تقویٰ اور علم کا ماحول پیدا کریں پھر عورتوں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف خود بھی توجہ دیں۔کیونکہ اگر مردوں کا اپنا ماحول نہیں ہے ، گھروں میں وہ پاکیزہ ماحول نہیں ہے، تقویٰ پر چلنے کا ماحول نہیں۔تو اس کا اثر بہر حال عورتوں پر بھی ہوگا اور بچوں پر بھی ہوگا۔اگر مرد چاہیں تو پھر عورتوں میں چاہے وہ بڑی عمر کی بھی ہو جائیں تعلیم کی طرف شوق پیدا کر سکتے ہیں، کچھ نہ کچھ رغبت دلا سکتے ہیں۔کم از کم اتنا ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں اس لئے جماعت کے ہر طبقے کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔“ خطبہ جمعہ 18 جون 2004ء) سیدنا حضرت خلیفقہ اصبح الاول نے فرمایا: ہم نو بھائی بہن تھے۔میں اپنے تمام بھائی بہنوں سے چھوٹا ہوں۔میں اپنے ماں باپ کی سب سے آخری اولاد ہوں۔ہمارے باپ نے ہم سب کو پڑھانے کی بے حد کوشش کی۔ہمارے ایک بڑے بھائی تھے جو ہم سب میں بڑے خوبصورت تھے۔ہمارے باپ کے حکم کے موافق وہ مَدَن چند ایک جذامی کے پاس پڑھنے جاتے تھے۔اس وقت فارسی زبان کا عام رواج تھا اور مَدَن چند فارسی کا ماہر تھا۔شہر والوں نے کہا کہ آپ اپنے لڑکے کو کوڑھی کے پاس پڑھنے بھیجتے ہیں؟ ہمارے باپ نے فرمایا کہ کوڑھی ہو اور عالم ہو تو جاہل تندرست سے اچھا ہے۔ہم سب بھائی بہن الحمد للہ پڑھے لکھے تھے۔ہماری بہنیں بھی خوب لکھ پڑھ سکتی تھیں۔ہمارے باپ علم کے بڑے ہی قدر دان تھے۔جب ہماری سب سے بڑی بہن کی شادی ہوئی تو ہمارے باپ نے جہیز میں سب سے اوپر قرآن شریف رکھ دیا اور کہا کہ ہماری طرف سے یہی ہے۔“ (مرقاة الیقین فی حیاة نورالدین صفحه 193 ) اس ارشاد کی روشنی میں سفارش ہے کہ اپنی بچیوں کو جہیز میں قرآن کریم بھی دینا چاہئے کہ علم و معرفت بڑھانے کا سب سے بڑا یہی ذریعہ ہے۔نیز کتب سلسلہ بھی بچیوں کو جہیز میں دی جائیں۔سفارشات مجلس مشاورت 2009، صفحہ 19, 20 شائع کردہ نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ )