ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 22
اور سلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لیے پر مہیز گار رہنے کے لیے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور حدیث یہ ہے۔يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر وا حصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء (صحیح مسلم و بخاری) یعنی اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے نکاح کی قدرت رکھنا ہو تو چاہیے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے۔دارید دهرم ما طبع اول ۱۸۹۵ء دوسرا اقتباس محسنين غير مسافحين الجزء نمیرہ یعنی چاہیے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پرہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ حیوات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو " ) آریہ دھرم صدا طبع اول ۱۸۹۵