ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 33
بھی ہوتا ہے جہاں اس کیلئے ایک مقام ملتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے یہ مسئلہ عام طور پر مستمر مسئلہ سے بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے۔الحکم جلد نمبر ۳ صفحه ۳۰۲ پرچه ۲۳ جنوری شهداء) (51499) یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ حضرت اقدس کو جو کہ جناب الہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے شنی آنکھیں بخشیں اور آسمانی نور سے بہرہ ور فرمایا تھا۔اس لیے آپ نے ارواح کے تعلق قبور کا ذکر کرتے ہوئے۔بیانگ دہل اعلان فرمایا کہ ہم اپنے ذاتی تجریہ سے گواہ میں نا مگر کتاب حکام اسلام " کے مصنف کو ایسا کوئی دعوی نہیں تھا نہ ہو سکتا تھا اس لیئے انہوں نے اپنی کتاب میں حضرت اقدس کے ملفوظات کا طویل اقتباس نقل کرتے ہوئے اس کے بعض الفاظ قلمزن فرما دیئے جو بلاشبہ حق پسندی کا ایک قابل تعریف نمونہ ہے اسے کاش وہ کتاب احکام اسلام کے اصل ماخذ کے برملا اظہار کی جرات بھی فرما سکتے !!! خلاصہ مندرجہ بالا تفصیلی جائزہ اور موازن سے متعد و متفائق ہمارے سامنے آتے ہی شاد ا عہد حاضر میں اسلامی تعلیمات کے حقیقی فلسفہ کی نقاب کشائی کا اصل سہرا