ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 29
۲۹ اور کتنی ہی سچائیاں ہیں کہ وہ مرکز قوی یعنی دل سے معلوم ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت کے معلوم کرنے کے لیے مختلف طریق اور ذریعے رکھتے ہیں مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو اگر کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ بتا سکیں گے۔ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو وہ اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہ سکے گی۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لیے مختلف قومی اور طاقتیں ہیں۔اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں۔یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔آجکل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔روزمرہ کے کاموں کا میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا بلکہ جدا گانہ خرقتیں مقرر ہیں۔سقہ پانی پلاتا ہے۔دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔باورچی کھانا پکاتا ہے۔غرضیکہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔پس اس اصل کو یاد رکھو کہ مختلف قوتوں کے مختلف کام ہیں۔انسان بڑے قویٰ سے کر آیا ہے اور طرح طرح خدمتیں اس کی تکمیل کے لیے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ اپنی