ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 20
خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قومی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے۔اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے یہ خطرات جنبش کر سکیں۔اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قید یوں کی حراست میں رکھا جائے۔یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زمیتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ خوابیده نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچالیا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا۔اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں اور ہر ایک پر ہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے ، اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف اہے بے محابا نظر اُٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لیے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے میں سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری مخلق کے رنگ میں آجائے گی اور اس کی تمدنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔یہی وہ تعلق ہے جس کو احصان اور عفت کہتے ہیں۔د اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۲۷-۳۰ طبع اول شششاء )