ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 14
۱۴ اور وہاں رعب دکھلانا سفلہ بن سمجھا جاتا ہے۔غرض ہر ایک وقت اور ہرا یک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتا۔وہ حیوان ہے نہ انسان اور وہ وحشی ہے نہ مہذب ! ر نسیم دعوت صفحه ۷۱ ۲۰ ۷ طبع اول ۱۹۰۳ء ) به روح پرور مضمون مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی کتاب " احکام اسلام عقل کی نظر میں" کے صفحہ ۱۲۳ اور ۲۲۴ میں اول سے آخر یک بعینہ نقل شدہ موجود ہے۔حرمت خنزیر کا فلسفہ - کتاب احکام السلام صفحہ ۲۰ میں وجوہ حرمت ختر برا کے زیر عنوان " (۲۰۴) خنہ حسب ذیل عبارت مندرج ہے جو حضرت اقدس کی معرکہ آراء کتاب اسلامی اکھوان کی فلاسفی کے صفحہ ۲۴ (طبع اول ) سے مستعار لی گئی ہے۔وا اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے عزت اور دیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور یک جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہوتا ہے۔پس اس میں کیا شک