ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 13
على الله -۔یعنی اگر کوئی تمھیں دکھ پہنچا دے مثلاً دانت توڑ دے یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی لیکن اگر تم ایسی نے صورت میں گناہ معاف کردو کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے یعنی مثلاً محرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے تو اس صورت میں معاف کرنا بھی بہتر ہے اور اس معاف کرنے کا خدا سے اجر ملے گا۔اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا۔سوسی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم چل رہا ہے۔رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا ہی عقلمندی ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے بلکہ حسب موقع گرم اور سرو غذائیں بدلتے رہتے ہیں اور جاڑے اور گرمی کئے قوں میں کپڑے بھی مناسب حال بدلتے رہتے ہیں۔پس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے وہاں نرمی اور درگزر سے کام بگڑتا ہے اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے