احمدیت کی امتیازی شان — Page 68
۶۸ کو چلنا چاہیے۔اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے حضرت ناناجان کی بات سن کر فرمایا :- یہ تو ٹھیک اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر یں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔دچار تقریر بی منت ۲ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) یہ تو ایک بے مثال عاشق رسول کے قلبی جذبات واردات ہیں لیکن آہ انگریزی عہد حکومت میں بعض ایسے مفتیان عظام اور مفکرین کرام بھی پیدا ہوئے جنہوں نے یا تو گنبد خضری کے حرام اور نا جائز ہونے کا فتویٰ دیا (فتاوی دار العلوم دیو بند مت) یا اسے غریبوں کے خلاف سرمایہ داروں کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا کہ : سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاک مجرے کو گرایا اور اس پر پختہ عمارت تعمیر کر دی تاکہ سادگی پسند اور غریب کی اصل زندگی کی طرف مسلم عوام کا دھیان