احمدیت کی امتیازی شان — Page 48
۴۸ یہ تو شیشہ کا فرش ہے اور پانی اس کے نیچے ہے۔اس مقام میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔قَالَ اِنَّهُ صَرح ممرد مِّنْ قَوَارِ بر یعنی اس نبی نے کہا کہ اسے بلقیس تو کیوں دھوکا کھاتی ہے یہ تو شیش محل کے شیشے ہیں جو اوپر کی سطح پر بطور فرش کے لگائے گئے ہیں اور پانی جو زور سے بہہ رہا ہے وہ تو ان نبیوں کے نیچے ہے نہ کہ یہ خود پانی توان یہ ہیں تب وہ مجھ گئی کہ میری مذہبی غلطی پر مجھے ہوشیار کیا گیا ہے اور میں نے فی الحقیقت بجہالت کی راہ اختیار کر رکھی تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی۔تب وہ خدائے واحد لا شریک پر ایمان لائی اور اُس کی یہ نکھیں کھل گئیں اور اُس نے یقین کر لیا کہ وہ طاقت معظمی جس کی پرستش کرنی چاہیے وہ تو اور ہے اور میں دھور کے ہیں رہی اور کھی چیز کو معبود ٹھرایا۔اور اس نبی کی تقریرہ کا ماحصل یہ تھا کہ دنیا ایک شیش محل ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور عناصر وغیرہ جوکچھ کام کر رہے ہیں یہ در اصل ان کے کام نہیں۔یہ تو بطور شیشوں کے ہیں بلکہ اُن کے نیچے ایک مخفی طاقت ہے جو خدا ہے (نسیم دعوت خین اول من ۳۸۳) : ص