احمدیت کی امتیازی شان

by Other Authors

Page 47 of 81

احمدیت کی امتیازی شان — Page 47

بادشاہ تھی۔اور ایسا ہوا کہ اس وقت کے نبی نے اس کو دھمکی دے بھیجی کہ تجھے ہمارے پاس حاضر ہونا چاہیے ورنہ ہمارا لشکر تیرے پر چڑھائی کرے گا اور پھر تیری خیر نہیں ہوگی۔پس وہ ڈر گئی اور اس نبی کے پاس حاضر ہونے کے لئے اپنے شہر سے روانہ ہوئی اور قبل اس کے کہ وہ حاضر ہو اُس کو متنبہ کرنے کے لئے ایک ایسا محل تیار کیا گیا جس پر نہایت مصفا شیشہ کا فرش تھا اور اس فرش کے نیچے نہر کی طرح ایک وسیع فندق طیار کی گئی تھی میں میں پانی بہتا تھا اور پانی میں مچھلیاں چلتی تھیں۔جب وہ ملکہ اُس جگہ پہنچی تو اُس کو حکم دیا گیا کہ محل کے اندر آجا۔تب اُس نے نزدیک جا کر دیکھا کہ پانی زور سے بہہ رہا ہے اور اس میں مچھلیاں ہیں۔اس نظارہ سے اُس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھا لیا کہ ایسا نہ ہو کہ پانی میں تو ہو جائیں۔تب اُس نبی نے اس ملکہ کو جس کا نام بلقیس تھا آواز دی کہ اسے بلقیس تو کسی غلطی میں گرفتار ہوگئی یہ تو پانی نہیں ہے جس سے ڈر کو تو نے پاجامہ اوپر اٹھالیا