احمدیت کی امتیازی شان — Page 64
۶۴ سے میلی لیں۔( دعائے ماثوره گنجینه رحمت هشته ناشران پیشین خلاقی) اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور) اسی طرز کی اخلاق سوز روایات ہی تھیں جن کو پڑھ کر بیسیویں صدی کے آغاز میں بٹیالہ کے ایک شخص نے یہ عقیدہ وضع کر لیا تھا کہ نجات اخروی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانا ضرور کی نہیں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو علم ہوا تو آپ نے اسے فی الفور جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا اور ارشاد فرمایا : " وہ خدا جو زمین و آسمان کا خالق ہے میرے بر ظاہر ہوا۔۔۔۔۔اور اسی نے میرے ساتھ ہمکلام مجھے یہ بتلایا کہ وہ نبی نہیں نے قرآن پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔وہ پہچانی ہے اور وہی ہے جس کے قدموں کے نیچے نجات ہے۔اور بجز اس کی متابعت کے ہرگز ہرگز جسی کو کوئی نور حاصل نہیں ہوگا اور جب میرے خدا نے اس نبی کی وقعت اور قدر اور عظمت میرے پر ظاہر کی تو میں کانپ اُٹھا اور میرے بدن پر لرزہ پڑگیا۔کیونکہ جیسا کہ حضرت عینی