احمدیت کی امتیازی شان

by Other Authors

Page 41 of 81

احمدیت کی امتیازی شان — Page 41

۴۱ ہے اس لئے قرآنی شریعت منسوخ ہو سکتی ہے اور معاذ اللہ ایک رسول نئی شریعت لے کر آسکتا ہے۔یہی وہ خوفناک نقطۂ خیال ہے میں نے بانیوں اور بھائیوں کے لئے مسلمانان عالم میں ایک نئی شریعت پر ایمان لانے اور ارتداد اختیار کرنے کی راہیں کھول دی ہیں۔(خاتمیت " ما ۳۰ تالیف جعفر سبحانی تهران سلطانی لیکن احمدیت کے نزدیک نبی اور رسول ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ماموروں کو خدا ہی بھیجتا ہے اس لئے وہ رسول کہلاتے ہیں اور چونکہ وہ بندوں کو خدا کی باتیں سُناتے ہیں اسلئے ان کا نام نبی رکھا جاتا ہے۔(الفضل ۹ ربون ۱۹۴۴ء ص۳) قرآن کریم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سورۃ مریم ع ۳ میں بیک وقت رَسُولًا نَّبِيًّا کہ کر اس نظریہ پر مُترتصدیق ثبت کردی ہے۔احمدیت کا دوسرا مخصوص نظریہ یہ ہے کہ نبیوں کے تجزات کرامات حق اور خدا کی زندہ ہستی کا ثبوت ہوتے ہیں مگر عہد حاضر کے بعض عمائدین اسلام فرماتے ہیں کہ :