احمدیت کی امتیازی شان — Page 21
۲۱ ایمان ہے۔افسوس یہ اہم رکن بھی افراط و تفریط کا شکار ہوچکا ہے بلکہ مسخ کر دیا گیا ہے۔ایک طرف تو مدت سے یہ خیال پھیلایا جا رہا ہے کہ ملائکہ فرضی اور وہمی وجود ہیں جن کا وجود سرسید مرحوم کے الفاظ میں برہان عقلی یا قرآن مجید اور احادیث نبوی سے ثابت نہیں " ( مقالات سرسید حصہ سوم صد مرتبه مولا نا شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پیتی۔ناشر: - توقی ادب کلب روڈ لاہور )۔دوسری طرف راس عقیدہ نے دماغوں کو متاثر کر لیا ہے کہ فرشتے گناہ بھی کر لیتے ہیں۔ابلیس، جس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور راندہ درگاہ الہی ہوا ، فرشتوں کا سردار تھا۔(تفسیر مراح لسید جزء اول ملا از اشیخ محمد نووی سید العلماء حجاز، ناشر - دار الكتب العربية الكبرى) قصص الانبیاء میں لکھا ہے کہ ابلیس نے ساتوں آسمان پر ایک ایک ہزار سال تک عبادت کی۔پھر چھ لاکھ برس کھڑا ہو کر گری داری کر تا رہا۔بعد ازاں بہشت میں ایک منبر نور کا رکھوا کر درس و تدریس اور و حفظ و نصیحت کرتا رہا اور جبرائیل و میکائیل، اسرافیل و عزرائیل اور سب فرشتے اس منبر کے نیچے بیٹھ کر وعظ سنا کرتے تھے۔ابلیس کا یہ سلسلہ تدریس و تعلیم بہشت میں ہزار برس تک