احمدیت کا پیغام — Page 40
بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ آپ کی تحریک بھی ویسی ہی ہے جیسے آج کل کے صوفیاء وغیرہ کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نماز روزہ پر زور دیتے ہیں اور اچھے بھلے آدمیوں خوخلوت میں بیٹھا کر پردہ نشین عورتوں کی طرح بنادیتے ہیں۔اگر آپ ایسا کرتے تو یقیناً آپ بھی مغز کے نام سے ایک قشر کے حصول کی تحریک کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔آپ نے جہاں دینی احکام پر زور دیا وہاں اس بات پر بھی زور دیا کہ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لئے آیا کرتا ہے کہ وہ انسان کے ذہن کو جلا بخشے اور اس کے دماغ کو منور کرے اور اس کی عقل کو تیز کرے۔آپ نے کہا جوشخص بچے طور پر دین پر عمل کرتا ہے اور بناوٹ سے کام نہیں لیتا دین اس کے اندر اخلاق فاضلہ پیدا کرتا ہے، دین اس کے اندر قوت عملیہ پیدا کرتا ہے، دین اس کے اندر ایثار اور قربانی کا مادہ پیدا کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم دین کو اختیار کرو تم نمازیں پڑھو تم روزے رکھو، حج کرو ، زکوۃ دو لیکن وہ نمازیں پڑھو جو قرآن نے بتائی ہیں اور وہ روزے رکھو جو قرآن نے بتائے ہیں، اور وہ حج کرو جو قرآن نے بتایا ہے اور وہ زکوۃ دو جو قرآن نے بتائی ہے۔قرآن کریم تم سے اُٹھک بیٹھک کا مطالبہ نہیں کرتا ، نہ وہ تم سے بھوکے رہنے کا مطالبہ کرتا ہے، نہ اپنا ملک بے فائدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے، نہ اپنا مال گنوانے کا مطالبہ کرتا ہے قرآن کریم تو نماز کے متعلق یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكُرُ الله اكبرُ ط وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ - نماز تم سے فحشاء اور منکر کو ترک کروا دیتی ہے۔پس اگر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نماز کا قرآن کریم نے بتایا ہے تو تمہاری نماز نماز نہیں ہے۔اور روزے کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ روزہ اس لئے ل العنكبوت : ۴۶ البقره: ۱۸۴