احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 43

۴۳ صدی سے زیادہ عرصہ گزرا کہ الہام الہی کے نزول سے مسلمان منکر ہوں چکے ہیں۔بے شک اس سے پہلے مسلمانوں میں وہ لوگ موجود تھے جو کلام الہی کے نازل ہوتے رہنے کے قائل تھے۔قائل ہی نہیں، وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ خدا تعالیٰ ان سے باتیں کرتا ہے لیکن ایک صدی سے مسلمانوں پر یہ آفت نازل ہوئی ہے کہ وہ کلی طور پر کلام الہی کے جاری رہنے سے منکر ہو گئے بلکہ بعض علماء نے تو اس حقیقت کے اظہار کوکفر قرار دے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ مجھے سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا ہے اور مجھ سے ہی نہیں بلکہ جو شخص میری اتباع کرے گا اور میرے نقش قدم پر چلے گا اور میری تعلیم کو مانے گا اور میری ہدایت کو قبول کرے گا خدا تعالیٰ اس سے بھی باتیں کرے گا۔اس نے متواتر خدائی کلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنے ماننے والوں میں تحریک کی کہ تم بھی خدا تعالیٰ کے ان انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔آپ نے فرمایا مسلمان پانچ وقت خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اے خدا تو ہمیں سیدھا رستہ دکھا ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام نازل کئے تھے یعنی سابق انبیاء کرام۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ دعا ہمیشہ ہمیش کے لئے رائیگاں جاتی اور خدا تعالیٰ مسلمانوں میں سے کسی کے لئے بھی وہ رستہ نہ کھولتا جو پہلے نبیوں کے لئے کھولا گیا تھا اور کسی شخص سے بھی اس طرح کلام نہ کرتا جس طرح پہلے نبیوں سے کلام کرتا تھا۔اس طرح آپ نے اس جمود کو کلی طور پر دور کر دیا جو مسلمانوں کے دلوں پر طاری تھا۔میں نہیں کہتا کہ ہر احمدی مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر وہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد ے سورۃ الفاتحہ : ۷،۶