احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 41

۴۱ مقرر کیا گیا ہے تا تمہارے اندر تقویٰ اور اخلاق فاضلہ پیدا ہوں۔پس اگر تم روزے رکھتے ہو اور یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ تمہاری نیت درست نہیں اور تم روزہ نہیں رکھتے بلکہ تم اپنے آپ کو بھوکا رکھتے ہو اور خدا تعالیٰ کو تمہارا بھوکا رکھنا تو مطلوب نہیں اور حج کے لئے فرماتا ہے کہ یہ بغاوت کے خیالات کو روکنے اور باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔پس حج رفت اور فسق اور جدال کو روکنے کے لئے ہے اور زکوۃ کے لئے فرماتا ب خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهَّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها زکوة تزکیہ فر دو قوم اور تطہیر قلب و افکار کے لئے مقرر کی گئی ہے پس جب تک یہ نتائج پیدا نہ ہوں تمہارا حج اور تمہاری زکوۃ صرف دکھاوے کے ہیں۔پس تم نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، زکوۃ دومگر تمہاری نماز اور روزے اور حج کو میں تب تسلیم کروں گا جب ان کا نتیجہ نکلے اور تم فحشاء ومنکر سے بچو اور تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو اور رفث اور فسوق اور جدال سے گلی طور پر دور ہو جاؤ اور تزکیہ فرد و قوم اور تطہیر قلب و افکار تم کو حاصل ہو لیکن جس شخص کے اندر یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوگا میں اسے اپنی جماعت میں نہیں سمجھوں گا کیونکہ اس نے قشر کو اختیار کیا مغز کو اختیار نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کا مقصود تھا۔اسی طرح تمام باقی عبادات کے متعلق آپ نے مغز پر زور دیا اور فرمایا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت کے بغیر ہو۔خدا تعالیٰ آنکھوں کو نظر نہیں آتا، خدا تعالیٰ دل کو نظر سے آتا ہے۔خدا تعالیٰ کو ہاتھوں سے نہیں چھوا جاتا،خدا تعالیٰ کو محبت چھوا جاتا ہے۔پس مذہب کی غرض یہ نہیں کہ وہ صرف آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرے بلکہ جب بھی وہ آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرتا ہے تو وہ دل اور جذبات کو صاف کرنے کے لئے ل التوبه : ۱۰۳