احمدیت کا پیغام — Page 39
۳۹ سارے وجود کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے اور اپنی دنیوی حاجات کو دینی حاجات کے تابع کر دے۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً اسلام اور دیگر ادیان میں یہی فرق ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم علم حاصل نہ کرو، نہ یہ کہتا ہے کہ تم تجارتیں نہ کرو، نہ یہ کہتا ہے کہ صنعت و حرفت نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنی حکومت کی مضبوطی کی کوشش نہ کرو۔وہ صرف انسان کے نقطۂ نگاہ کو بدلتا ہے۔دنیا میں تمام کاموں کے دو نقطہ نگاہ ہوتے ہیں ایک قشر سے مغز حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے۔اور ایک مغز سے قشر حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے جو شخص قشر سے مغز حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے بلکہ اکثر وہ نا کام رہتا ہے لیکن جو شخص مغز حاصل کرتا ہے اس کو ساتھ ہی قشر بھی مل جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے تمام جد و جہد دین کے لئے تھی لیکن یہ نہیں کہ وہ دنیوی نعمتوں سے محروم ہو گئے ہوں۔یہ تو ایک طبعی امر ہے جن لوگوں کو دین ملے گا دنیا لونڈی کی طرح ان کے پیچھے دوڑتی آئے گی لیکن دنیا کے ساتھ دین کا ملنا ضروری نہیں۔بسا اوقات وہ نہیں ملتا۔بسا اوقات رہا سہا دین بھی ہاتھوں سے جاتا رہتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انبیاء کے طریق پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے دین پر زور دینا شروع کیا۔جس وقت آپ ظاہر ہوئے مسلمانوں میں دو قسم کی تحریکیں جاری تھیں۔ایک تحریک یہ تھی کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں اس لئے انہیں دنیوی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوسری تحریک آپ نے چلائی کہ ہم کو دین کی طرف توجہ کرنی چاہئے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا اللہ تعالیٰ ہمیں خود بخود دے دے گا۔