احمدیت کا پیغام — Page 38
۳۸ غلام ہر نیا قدم اُٹھانے سے پہلے اپنے آقا کی طرف دیکھتا ہے اسی طرح انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ اس کی ہر دم اور ہر کام میں راہنمائی کرے اور تمام چیزوں سے زیادہ وہ اس کا محبوب ہو اور تمام باتوں میں وہ اس پر توکل کرنے والا ہو اور اسی فرض کو پورا کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں آئے۔ان کا یہ کام تھا کہ وہ دنیا دار لوگوں کو دین دار بنائیں، اسلام کی حکومت دلوں پر قائم کریں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر اپنے روحانی تخت پر بٹھا ئیں جس تخت پر سے اتارنے کے لئے شیطانی طاقتیں اندرونی اور بیرونی حملے کر رہی ہیں۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کو قشر کی بجائے مغز کی طرف توجہ دلائی اور اس بات پر زور دیا کہ احکام کا ظاہر بھی نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن بغیر باطن کی طرف توجہ کرنے کے انسان کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔چنانچہ آپ نے ایک جماعت قائم کی اور عہد بیعت میں یہ شرط مقرر کی کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔در حقیقت یہی مرض تھی جو مسلمانوں کو گھن کی طرح کھا رہی تھی۔باوجود اس کے کہ دنیا ان کے ہاتھوں سے چھوٹ چکی تھی پھر بھی دنیا ہی کی طرف ان کی توجہ جاتی تھی۔اسلام کی ترقی کے معنے ان کے نزدیک بادشاہتوں کا حصول رہ گیا تھا اور اسلام کی کامیابی کے معنی ان کے نزدیک مسلمان کہلانے والوں کی تعلیم اور ان کی تجارت کی ترقی تھی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس لئے نہیں آئے تھے کہ لوگ مسلمان کہلانے لگ جائیں بلکہ آپ لوگوں کو حقیقی مسلمان بنانے آئے تھے جس کی تعریف قرآن کریم نے یہ فرمائی ہے کہ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وہ اپنے البقرہ: ۱۱۳