احمدیت کا پیغام — Page 34
۳۴ کرے۔ابتدائے آفرینش سے لے کر اس وقت تک خدا تعالیٰ کی یہی سنت جاری رہی ہے اور مختلف اوقات میں خدا تعالیٰ نے اپنے مختلف مظاہر اس دنیا میں مبعوث فرمائے۔کبھی خدا تعالیٰ کی صفات آدم کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں کبھی نوح کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں۔کبھی ابراہیمی جسم میں سے وہ ظاہر ہوئیں، تو کبھی موسوی جسم سے ہویدا ہوئیں، کبھی داؤد نے خدا تعالیٰ کا چہرہ دنیا کو دکھایا تو بھی مسیح نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو اپنے وجود میں ظاہر کیا۔سب سے آخر اور سب سے کامل طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو اجمالاً اور تفصیلاً انفرادی حیثیت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی ایسی شان اور ایسے جلال کے ساتھ دنیا پر ظاہر کیا کہ پہلے انبیاء آپ کے شمسی وجود کے آگے ستاروں کی مانند ماند پڑ گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام شریعتیں ختم ہوگئیں اور تمام شریعت لانے والے انبیاء کی آمد کا رستہ بند کر دیا گیا۔کسی جنبہ داری کی وجہ سے نہیں، کسی لحاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی شریعت لائے جو تمام ضرورتوں کی جامع اور تمام حاجتوں کو پورا کرنے والی تھی۔جو چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تھی وہ تو پوری ہوگئی لیکن بندوں کے متعلق کوئی ضمانت نہیں تھی کہ وہ صحیح رستہ کو نہیں چھوڑیں گے اور اس سچی تعلیم کو نہیں بھولیں گے بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا تھا کہ يُدَبِرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُنَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا تَعُدُّونَ يعنى اللہ تعالیٰ اپنے اس آخری کلام اور اپنی اس آخری شریعت کو آسمان سے زمین پر قائم کر دے گا اور لوگوں کی مخالفت اس کے رستہ میں روک نہیں بنے گی۔مگر پھر ایک عرصہ کے السجدة: 1