احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 33

۳۳ اذیت پارہے ہیں۔یہ تو میں نے عقلی نقطہ نگاہ سے جواب دیا ہے اب میں روحانی نقطہ نگاہ سے جواب دیتا ہوں اور میرے نزدیک وہی حقیقی نقطہ نگاہ ہے۔اس سوال کا روحانی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی پھیل جاتی ہے ، روحانیت اس سے مفقود ہو جاتی ہے۔لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرنے لگ جاتے ہیں، تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آسمان سے کسی مامور کو مبعوث فرماتا ہے تا کہ اس کے کھوئے ہوئے بندوں کو پھر اس کی طرف واپس لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو پھر دنیا میں قائم کرے۔بعض دفعہ یہ مامورین شریعت ساتھ لاتے ہیں اور بعض دفعہ کسی پہلی شریعت کو قائم کرنے کے لئے آتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے اور بار بار بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے اس رحم اور کرم کی شناخت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بہت بڑی شان رکھتا ہے اور انسان اس کے مقابلہ میں ایک کیڑے سے بھی بدتر ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام کام حکمت سے پُر ہوتے ہیں اور وہ کوئی کام بھی بلا وجہ اور بغیر فائدہ کے نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لعبین کا یعنی ہم نے یہ زمین اور آسمان یو نہی نہیں پیدا کئے بلکہ اُن کی پیدائش میں غرض رکھی ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا مظہر بن کر دنیا کے ان لوگوں کو جو بلند پروازی کی طاقت نہیں رکھتے خدا تعالیٰ سے روشناس الدخان :٣٩