احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 18

۱۸ احمدیوں کا تقدیر کے متعلق عقیدہ ان غلط فہمیوں میں سے جو نا واقفوں کو جماعت احمدیہ کے متعلق ہیں ایک غلط نہی یہ بھی ہے کہ احمدی لوگ تقدیر کے منکر ہیں۔احمدی لوگ تقدیر کے ہرگز منکر نہیں۔ہم لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر اس دُنیا میں جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی اور اس کی تقدیر کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ہم صرف اسبات کے خلاف ہیں کہ چور کی چوری، بے نماز کے ترک نماز ، جھوٹے کے جھوٹ ، دھو کے باز کے دھوکے، قاتل کے قتل اور بد کار کی بدکاری کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور اپنے منہ کی سیاہی خدا تعالیٰ کے منہ پر ملنے کی کوشش کی جائے۔ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اس دینا میں تقدیر اور تدبیر کی دو نہریں ایک وقت میں چلائی ہیں اور بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یبْغِین کے ارشاد کے مطابق ان دونوں کے درمیان ایک ایسی حد فاصل مقرر کر دی ہے کہ یہ کبھی آپس میں ٹکراتی نہیں۔تدبیر کا میدان اپنی جگہ پر ہے۔اور تقدیر کا میدان اپنی جگہ پر ہے جن امور کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کو لازم قرار دیا ہے ان میں تدبیر کچھ نہیں کر سکتی اور جن امور کے لئے اس نے تدبیر کا رستہ کھولا ہے اُن میں تقدیر پر اُمید لگا کر بیٹھے رہنا اپنے پنے مستقبل کو خود تباہ کرنا ہے۔پس ہم جس بات کے مخالف ہیں وہ یہ ہے کہ انسان اپنی بد اعمالیوں کو تقدیر کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرے اور اپنی ستیوں اور غفلتوں کا جواز تقدیر کے لفظ سے نکالے اور جہاں خدا تعالیٰ نے تدبیر کا حکم دیا ہے وہاں تقدیر پر آس لگائے بیٹھا رہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ خطرناک نکلتا الرحمن : ۲۱