احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 14

۱۴ سکتا جب تک اُس پر حجت تمام نہ ہو۔خواہ وہ بڑی سے بڑی صداقت کا منکر ہی کیوں نہ ہو۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچپن میں مر جانے والے یا بلند پہاڑوں میں رہنے والے یا جنگلوں میں رہنے والے یا اتنے بڑھے جن کی سمجھ ماری گئی ہو یا پاگل جو عقل سے کورے ہوں ان لوگوں سے مؤاخذہ نہیں ہوگا بلکہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کی طرف دوبارہ نبی مبعوث فرمائے گا اور اُن کو سچ اور جھوٹ کے پہچاننے کا موقع دیا جائے گا تب جس پر حجت تمام ہوگی وہ دوزخ میں جائے گا اور جو ہدایت قبول کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔پس یہ غلط ہے کہ احمدیوں کے نزدیک ہر وہ شخص جو احمدیت میں داخل نہیں ہوتا دوزخی ہے۔نجات کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صداقت کے سمجھنے سے گریز کرتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ صداقت اس کے کان میں نہ پڑے تا کہ اسے ماننی نہ پڑے یا جس پر مجبت تمام ہو جائے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے لیکن ایسے شخص کو بھی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو معاف کر سکتا ہے اس کی رحمت کی تقسیم ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ایک غلام اپنے آقا کو سخاوت سے باز نہیں رکھ سکتا۔خدا تعالیٰ ہمارا آقا ہے اور ہمارا بادشاہ ہے اور ہمارا خالق ہے اور ہمارا مالک ہے۔اگر اس کی حکمت اور اس کا علم اور اس کی رحمت کسی ایسے شخص کو بھی بخشتا چاہے جس کی عام حالات کے مطابق بخشش ناممکن نظر آتی ہو تو ہم کون ہیں جو اس کے ہاتھ کو روکیں اور ہم کون ہیں جو اُس کو بخشش سے باز رکھیں۔نجات کے متعلق تو احدیت کا عقیدہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی وجہ سے بعض مولویوں نے احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے یعنی ہم لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی انسان بھی دائمی عذاب میں مبتلا نہیں ہوگا، نہ مومن نہ کا فر۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ