احمدیت کا پیغام — Page 7
واقفیت ہے اور قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ بعض لوگوں نے تو لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللهِ - لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُوسَى كَلِيمُ الله اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عِيسَى رُوحُ اللہ کے کلمات بھی پیش کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ پہلے مذاہب کے کلمے ہیں حالانکہ تو رات اور انجیل اور عیسائی لٹریچر میں ان کلموں کا کہیں نام و نشان بھی نہیں۔مسلمانوں میں آج ہزاروں خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن کیا وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں؟ پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی اپنا کلمہ بھول گئے ہیں۔اگر وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں اور ان کی کتابوں سے بھی یہ کلمے غائب ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کو یہ کلمے کس نے بتائے ہیں۔حق یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کا کلمہ نہیں تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیتوں میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سارے نبیوں میں سے صرف آپ کو کلمہ ملا ہے اور کسی نبی کو کلمہ نہیں ملا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمہ میں اقرار رسالت کو اقرار توحید کے ساتھ ملادیا گیا ہے اور اقرار توحید ایک دائی صداقت ہے وہ کبھی مٹ نہیں سکتی۔چونکہ پہلے نبیوں کی نبوت کے زمانہ نے کسی نہ کسی وقت ختم ہو جانا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان میں سے کسی نبی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر نہیں بیان کیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت نے چونکہ قیامت تک چلتے چلے جانا تھا اور آپ کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہونا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت اور آپ کے نام کو کم یہ تو حید کے ساتھ ملا کر بیان کیا تا دنیا کو یہ بتا دے کہ جس طرح لا اله الا اللہ کبھی نہیں مٹے گا اسی طرح محمد رَسُولُ اللہ بھی کبھی نہیں مٹے گا۔تعجب ہے کہ یہودی نہیں کہتا کہ موسیٰ علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔عیسائی نہیں کہتا کہ عیسی علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔صابی نہیں کہتا کہ ابراہیم علیہ السلام کا